اختیارات مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

اختیارات مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

السلام علیکم و رحمتۃ اللہ و برکاتہ

یہ ایک اہم مضمون کا عنوان ہے “اختیارات مصطفی صلی اللہ علیہ و الیہ و سلم  جس کو حضرت علامہ مفتی عبد الخبیر اشرفی مصباحی نے مرتب کیا ہے. رب العالمين مفتی صاحب کے علم وعمل میں بے پناہ برکتیں عطا فرمائے، قارئین بغور مطالعہ فرمائیں اور اپنے احباب تک ثواب کی نیت سے ضرور شیئر کریں

اختیارات مصطفی ﷺ

حقیقی مالک و مختار اللہ تعالیٰ ہے وہی خدا ہے جو مالک ومختار ہے، زمین و آسمان اور ان میں جو کچھ ہے، وہ سب کا مالک ہے، اس میں کسی کی کوئی ساجھی داری نہیں ہے، وہ جب چاہے کرے، جو چاہے کرے، جس طرح چاہے کرے، اسے نہ کسی سے مشورہ کی ضرورت ہے اور نہ ہی اعوان و انصار کی حاجت ہے-“للہ المشرق والمغرب؛ پورب اور پچھم سب اللہ ہی کا ہے، سب کا خالق وہی ہے وہی سب کا مالک ہے، اگر وہ کسی کو کچھ نہ دیتا توکسی کے پاس کچھ نہ ہوتا-

اس نے جو چاہا جسے چاہا، دیا، عالم کو علم دیا، جاہل کو جہالت دی، امیر کو مالداری اور فقیر کو فقیری دی، ولی کو ولایت اور نبی کو نبوت دی، اس نے جس کو چاہا رسول بنایا اور جس کو چاہا امتی بنایا اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ اللہ خوب جانتا ہے کہ رسالت کا حق دار کون ہے اور امتی ہونے کا حق دار کون ہے

وہی خدا ہے جو بندوں کو اپنی رحمت سے نعمتیں دیتا ہے اور ان کے استعمال کا اختیار بھی دیتا ہے. وہی خدا ہے جو بندوں کے درمیان اپنی نعمتیں اپنی حکمت بالغہ کے مطابق بانٹتا ہے، کسی کو کچھ نعمتیں دیتا ہے تو کسی کو سب کچھ دیتا ہے، کسی کو منصب دیتا ہے تو کسی کو بے منصب رکھتا ہے، مناصب دنیا و آخرت کی تقسیم بھی اپنی حکمت بالغہ سے کرتا ہے، کسی کو صرف منصب دیتا ہے اور کسی کو منصب جلیلہ عطا کرتا ہے،. تلك الرسل فضلنا بعضهم علی بعض منھم من کلم اللہ و رفع بعضھم درجات، (سورہ بقرہ 253)۔ یہ سب رسول (جو ہم نے مبعوث فرمائے) ہم نے ان میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، ان میں کسی سے اللہ نے (براہ راست) کلام فرمایا اور کسی کو درجات میں (سب پر)فوقیت دی (یعنی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو جملہ درجات میں سب پر بلندی عطا فرمائی)۔

جس کے پاس عقل و خرد ہے وہ یہ جانتا ہے کہ جو ذات جتنے بڑے منصب پر فائز ہوتی ہے اس کے اختیارات اتنے ہی وسیع ہوتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا منصب کسی کو عطانہ فرمایا، اس لحاظ سے پوری کائنات میں آپ سے زیادہ اختیارات بھی اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہ دیا، یہ ایک کھلی حقیقت ہے، عقل مندوں کو اس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں، آنے والے صفحات میں قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی جائے گی

اللہ کریم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو ہر چیز میں خیر کثیر عطا کیا

قرآن کریم میں ہے. انا اعطینک الکوثر،، اے محبوب بے شک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں.(ترجمہ کنزالایمان، سورہ کوثر 1) علامہ سمین حلبی نے اپنی کتاب”الدرالمصون فی علم الکتاب الکمنون” میں سوری بقرہ کی تفسیر میں بائیس علمی نکات لکھے ہیں – ساتویں نمبر پر لکھتے ہیں. “حذ ف الموصوف الکوثر، لأن فی حذفہ من فرط الشیاع والابھام” حد درجہ عموم وشمول پر دلالت کی وجہ سے” الکوثر کا موصوف حذف کر دیا گیا .الدرالمصون فی علم الکتاب الکمنون ، سیمن حلبی ج 18ص 23باب 9 مکتبہ مشکوۃ الاسلامیہ.. مفسرین کی ایک بڑی جماعت نے الکوثر کی تفسیر “ھو الخیر الکثیر کلہ” یعنی کوثر سے مراد تمام چیزوں میں کثرت کی ہے (۔تفصیل دیکھیئے۔۔ الدرالمنثور ، امام جلال الدین سیوطی ج8  ص 649،دار الفکر ،بیروت، لبنان سن اشاعت؁1993

اردو زبان کی جامع اور مختصر تفسیر خزائن العرفان میں ہے….. فضائل کثیرہ عنایت کر کے تمام خلق پر افضل کیا، حسن ظاہر بھی دیا، حسن باطن بھی، نسب عالی بھی، نبوت بھی، کتاب بھی حکمت بھی، علم بھی، شفاعت بھی، حوض کوثر بھی، مقام محمود بھی، کثرت امت بھی، اعدائے دین پر غلبہ بھی، کثرت فتوح بھی اور بے شمار نعمتیں اور فضیلتیں جن کی نہایت نہیں(خزائن العرفان مع کنزالایمان،تحت سورہ کوثر ،1)۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اللہ کریم نے  ہر قسم کی نعمتیں عطا فرمادی ہیں

خواہ یہ نعمتیں دنیوی ہوں یا اخروی حسی ہوں یا معنوی اور یہ مسلم اصل ہے کہ جس کی ملکیت میں نعمتوں کی کثرت ہوتی ہے، وہ سب زیادہ اختیار بھی رکھتے ہیں، لہذا رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات گرامی اللہ کی عطا سے بے شمار نعمتوں کے مالک بھی ہیں اور ان کے مختار بھی ہیں، نیز اختیار وتصرف بھی ایک نعمت ہے لہذا کثرت اختیار و تصرف بھی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو عطا کر دی گئی ہے

احادیث مبارکہ کی روشنی میں اختیارات مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

               وانی  اعطیت مفاتیح خزائن الارض او مفاتيح الأرض و انی واللہ مااخاف علیکم ان تشرکو ابعدی ولکن اخاف علیکم ان تنافسو فیھا

مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں یا زمین کے خزانے عطا کر دئے گئے، بخدا مجھے تم پر یہ خوف نہیں ہے کہ تم شرک کروگے لیکن یہ خوف ضرور ہے کہ تم دنیاداری میں پھنس جاؤگے(الصیحح البخاری ،محقق  امام بخاری ج 2 ,ص 91،دار طوق النجاۃ ، بار اول ،سن اشاعت 1422

اس قسم کی روایتیں بہت ہیں کسی میں ذکر ہے،، مجھے جنت کی چابیاں دی گئیں، کسی میں “یمن” کسی میں “شام” کسی میں “فارس” کسی”دنیا اور زمین” اور کسی میں ہے”مجھے ساری بھلائیوں کی چابیاں دی گئیں (دیکھیئے ۔۔ المعجم الکبیر ،امام طبرانی، مطبوعہ مکتبۃ العلوم والحکم، موصل، بار دوم،سال اشاعت 1983

مذکورہ حوالوں کی روشنی میں یہ بات پایئہ ثبوت تک پہنچ گئی کہ اللہ کریم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری نعمتیں عطا کردی ہیں – اللہ کریم جب کسی بندے کوئی نعمت دیتاہے تو اسے اس کا اختیار بھی دیتا ہے، جیسے عام بندوں کی آنکھیں دیں تو اختیار بھی دیا جب چاہیں بند کرے جب چاہیں کھلی رکھیں. اللہ کریم اپنے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ہر چیز میں خیر کثیر دیا اور زمین کے سارے خزانوں کی کنجیاں دیں تو اختیار بھی دیا جسے چاہیں دنیا کی دولت دے کر غنی کر دیں اور جسے چاہیں آخرت کی نعمت دے کر ولی کردیں

اللہ فرماتا ہے، انعم اللہ علیہ و انعمت علیہ،، اللہ نے نعت دی اور تم نے اسے (حضرت زید رضی اللہ عنہ کو)نعمت دی( سورہ احزاب 33).۔

ایک دوسری آیت میں اللہ فرماتا ہے، وما نقمو الا ان اغنھم اللہ و رسولہ من فضلہ  اور انہیں کیا برا لگا یہی نہ کہ اللہ و سول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کر دیا )سورہ توبہ 74)۔

وما آتکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ مانتھوا،، اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو(سورہ حشر 7)۔

مذکورہ آیات بینات سے عیاں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختار کل ہیں، ہر چیز میں اللہ عزوجل کے نائب ہیں، جسے چاہیں جو چاہیں عطا کر سکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سارے خزائن الہی کے خازن ہیں، کسی کو اپنی مرضی سے اور رضا سے عطا فرماتے ہیں کسی کو اس کی اپنی مرضی اور رضاسے عطا فرماتے ہیں کسی کو اس کی طلب اور مانگ پر دیتے ہیں،

دنیا و آخرت کی ہر نعمت آپ صلی اللہ علیہ والہ کے در اقدس کی بھیک ہے،۔ سرکار تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کیا خوب  فرماتے ہیں

جہاں بانی عطا کردیں بھری جنت ہبہ کردیں

۔نبی مختار کل ہیں جس کو جو چاہیں عطا کردیں

 

اعلیٰ حضرت بحیثیت سائنس داں ،اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے اس نیلے رنگ پر کلک کریں

اس تعلق سے احادیث و آثار کا بہتا سمندر کتابوں میں قید ہے قارئین باذوق کی خدمت میں تین حدیثیں نذر ہیں

عن حمید بن عبد الرحمن انه سمع معاوية یقول قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم من یرد اللہ به خیرا یفقہ فی الدین واللہ المعطی وانا القاسم،، حضرت معاویہ رضیاللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا فر مادیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ دینے والا اور میں تقسیم کرنے والا ہوں ۔(الصحیح البخاری محقق، ج4،ص:85، دار طوق النجاۃ ، بار اول ،سن اشاعت۔ 1422

بخاری شریف میں ہے۔۔۔

فانی انام جعلت قا سما اقسم بینکم وقال حصین بعث قاسما اقسم بینکم ۔حضرت حصین   رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا،، مجھے قاسم بنا کر مبعوث کیا گیا ہے، میں تمہارے درمیان اللہ کی نعمتیں بانٹتا ہوں(نفس مرجع ،نفس صفحہ)۔

مسلم  شریف میں ہے۔

و سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول إنما أنا خازن فمن اعطیتہ عن طیب نفس فیبارک لہ فیہ ومن اعطیتہ عن مسالۃ و شرہ کان کالذی یاکل ولا یشبع،۔

، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں (اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا) خازن ہوں جس شخص کو اپنی خوشی سے عطا کرتا ہوں اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جس کو میں اس کے سوال اور لالچ کی وجہ سے دیتا ہوں تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص کھانا کھاتا ہو اور اس کی بھوک نہ مٹتی ہو (صحیح مسلم ،امام مسلم،باب النہی عن المسئلہ۔ج : 3،ص : 94، ناشر دار الآفاق الجدیدہ،بیروت۔۔۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اختیارات کےتعلق سے یہ گفتگو عمومی نوعیت کی تھی، اب آئے تاریخ کے چند واقعات اپنی نگاہوں کے سامنے رکھیں جن سے یقیناً یہ کھل کر سامنے آجائے گا کہ دین و دنیا کی ہر شئی پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیار تھا۔

حضرت ربیعہ بن کعب اسلامی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں رات کو رہتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حاجت اور وضو کے لئے پانی لاکر دیا کرتا تھا، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا، مانگ کیا مانگتاہے،، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم، میں آپ سے جنت میں آپ کی رفاقت مانگتا ہوں – آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اس کے علاوہ اور کچھ، میں نے عرض کیا: مجھے یہی کافی ہے – تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا (تجھے جنت عطادی کردی) اب تم بھی کثرت سجود سے اپنے معاملے میں میری مدد کرو ۔(سنن ابی داوٗد،ج: 1، ص:421،  دار الفکر ،بیروت۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ کو جنت عطا کردی اور جنت میں اپنے ساتھ رفاقت بھی عطا کر دی

ایک بار دریائے رحمت جوش میں آیا، ایک ہی نشست میں دس صحابیوں کو جنت کی بشارت سنافی، ان صحابیوں کو “عشرہ مبشرہ” کہا جاتا ہے، حضرت طلحہ وزبیر رضی اللہ عہمنا کو جنت میں اپنا پڑوسی بنایا، حسنین کریمین رضی اللہ عنہا کوجنتی نوجوانوں کا سردار بنایا، سید فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو جنتی عورتوں کا سردار قرار دے دیا، ان کے علاوہ کثیر صحابہ کرام ایسے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے موقع بموقع جنت کا پروانہ عطا فرمایا، اتنا بڑا کام اللہ کا نائب مطلق ہی کر سکتا ہے جن کے ہاتھوں میں کونین کی کنجیاں ہوں اور وہ کونین کے مالک ومختار بنائے گئے ہوں

دنیوی نعمتوں کی تقسیم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اختیار

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ! میں آپ سے بہت کچھ سنتا ہوں، بھول جاتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اپنی چادر پھیلاؤ؛؛ میں نے اپنی چادر پھیلادی،، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے چلو بھر کر اس میں ڈال دئے اور فرمایا :اسے اپنے سینے سے لگالو میں نے ایسا ہی کیا، اس کے بعد کبھی کچھ نہیں بھولا (الصحیح البخاری محقق امام  بخاری، باب حفظظ العلم، ج:1،ص : 35،دار طوق النجاۃ، بار اول سن اشاعت،1422

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی، نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے پانی کا ایک مشکیزہ رکھاگیا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سے وضو فرمایا، لوگ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف لپکے، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ” کیا بات ہے؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمارے پاس وضو اور پینے کے لیے پانی نہیں ہے، صرف یہی پانی ہے جو آپ کے سامنے رکھا ہوا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دست مبارک مشکیزہ کے اندر رکھا فوراً چشموں کی طرف آپ کے انگشتہائے مبارک کے درمیان سے پانی جوش مار کر نکلنے لگا، ہم سب نے پیا اور وضو بھی کرلیا، حضرت سالم راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا:اس وقت آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے کہا اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تب بھی وہ پانی سب کے لیے کافی ہوجاتا، ہم اس وقت پندرہ سو تھے (الصحیح البخاری محقق امام بخاری ،ج: 4،ص :193، دارطوق النجاۃ، بار اول سن اشاعت1422

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! ان میں اللہ تعالیٰ سے برکت کی دعا فرمادیں، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انہیں یکجا کیا اور می چرے لیے ان میں برکت کی دعا فرمائی پھر مجھے فرمایا،، انہیں لے لو اور اپنے اس توشہ دان میں رکھ دو اور جب انہیں لینا چاہو تو اپنا ہاتھ اس میں ڈال کر لے لیا کرو، اسے جھاڑنا نہیں،، میں نے ان سےکئی وسق کھجوریں اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کیں، ہم خود اس میں سے کھاتے اور دوسروں کو بھی کھاتے، کبھی وہ توشہ دان میری کمر سے جدا جدا نہ ہوا یہاں تک جس حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہید کر دئے گئے تو وہ مجھ سے کہیں کھو گیا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے انگشت مبارک کی برکت سے پانی کا چش جاری ہوگیا، کلی مبارک کی برکت سے کنواں لبالب ہوگیا، لعاب دہن کی برکت سے کھانے میں اضافہ ہوگیا، اس قسم کے کثیر واقعات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نعمتہائے دنیا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تصرف و اختیار میں تھیں جہاں چاہتے اور جس طرح چاہتے تصرف فرمایا کرتے تھے

اعلی حضرت اور خد مت خلق اس مضمون کو پڑھنے کے لیےکلک کریں

عالم حیوانات پر رسول اللہ ﷺ کا تصرف 

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بکریوں نے محبت کی، اونٹوں نے آپ کی بات مانی، پرندوں نے آپ کے حکم کی تعمیل اور کثیر جانوروں نے آپ کو سجدہ کیا، احادیث کی کتابیں ان واقعات سے بھری پڑی ہیں، یہاں ہم مسند امام احمد بن حنبل کی ایک حدیث کا ترجمہ قارئین کی خدمت میں پیش کرکے اپنی بات ختم کرتے ہیں… حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہیں، ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر سے واپس آئے، راستے میں ہم بنو نجار کے ایک باغ میں پہنچے تو ہمیں معلوم کہ باغ میں ایک سرکش اونٹ ہے. جو باغ میں کسی کو داخل نہیں ہونے دیتا، اور جو باغ میں داخل ہونا چاہے، اس پر حملہ کردیتا ہے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے اس بات کا ذکر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا آپ صلی اللہ علیہ وسم تشریف لائے، اور باغ میں داخل ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو بلایا، تو وہ اپنی گردن کو زمین کے ساتھ گھسیٹتا ہوا، آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر سامنے بیٹھ گیا،

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسکی لگام لاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لگام دی، اور اسے اس کے مالک کے سپرد کر دیا، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا، بے شک زمین و آسمان میں سوائے سرکش جنوں اور انسانوں کے کوئی چیز ایسی نہیں جو یہ تسلیم نہ کرتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ( دیکھیئے مسند امام احمد بن  حنبل،ج:3، ص:،310 

خلاصئہ کلام یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو جنت و جہنم، نباتات وجماتات، حیوانات اور کل کائنات پر تصرف و اختیار تھا یہ سب کچھ اللہ عزوجل کے عطا اور فضل خاص سے تھا۔

ہم نے رسول اللہ ﷺ کے اختیارات و تصرات کے ثبوت میں جن واقعات کو پیش کیا ہے،بعض لوگ انہےں معجزہ تصور کرتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کے اختیارات پر شک کرنے لگتے ہیں،ان سی ہماری  گزارش ہے کہ ان واقعات کوصرف معجزہ کہ کر آگے نہ  بڑھیں بلکہ  اللہ کے رسول ﷺ کے  اختیارات کو ان سے سمجھنے کی کوسش کریں، یہ واقعات یقینا معجزات کے  قبیل سے ہیں کہ  کویٗ غیر نبی اس قسم کے کام انجام نہیں دیتے  ، لیکن یہ سرف معجزہ نہیں ہے کیونکہ  معجزے کی تعریف اس پر پوری طرح صادق نہیں آتی اس لیے کہ معجزے کی ضرورت تو وہاں ہوتی ہے جہاں  دعوائے نبوت کا اثبات مقصود ہو اور دلیل میں ایسا امر پیش کیا جائے کہ کفار میں سے کوئ وہ کام نہ  نہ کر سکے تاکہ حجت قائم ہو جائے اور یہاں ایسی کوئ بات نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق بولنے ،حق سننے اور حق پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔

از۔عبد الخبیر  اشرفی مصباحی

،صدر المدرسین دارالعلوم  اہل سنت منظر اسلام، التفات گنج،امبیڈکر نگر،اترپردیش،(الھند)۔

اسی طرح کے مضمامین پڑھنے کے لیے ہمارے ویب سا ئٹ کو وزٹ کرتے رہیں۔www.sunniulma.com

www.sunniulma.com

2 thoughts on “اختیارات مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم”

  1. Abdul Khabir Misbahi
    مضمون میں کتابت کی غلطیاں نظر آئیں، درست کر دینی چاہیے.
    مضمون کا بعض رہ گیا ہے بلکہ کچھ جگہوں پر کاٹ کر درج
    کیا گیا ہے، اگر پورا مضمون شائع ہوتا تو بہتر ہوتا.
    حوالوں میں اختصار کیا گیا ہے، جبکہ اصل مضمون میں حوالوں کا تفصیلاً اہتمام کیا گیا ہے، اگر یہاں بھی تفصیل رہتی تو قارئین کو اصل ماخذ تک رسائی آسان ہوتی
  2. Abdul Khabir Misbahi
    ماشاء اللہ تعالیٰ

    اللہ کریم آپ کی جملہ خدمات دینیہ خصوصاً اس پیش کش کو قبول فرمائے، جس جذبہء دین کے ساتھ آپ نے اس مشن کو شروع کیا ہے، اسے پایہ تکمیل تک پہنچائے.

  3. Pingback: علم فلکیات کا ارتقاء باب احمد رضا تک ~ علمائے اہل سنت علم فلکیات کا ارتقاء باب احمد رضا تک

  4. Pingback: عقیدہ توحید اور امام احمد رضا ~ علمائے اہل سنت عقیدہ توحید اور امام احمد رضا

  5. Pingback: فرضی مزارات کا بڑھتا دائرہ اہل سنت کے لئے لمحئہ فکریہ ~ سنی علما

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top