تعلیمات حضرت نوری میاں مارہروی کی عصری معنویت

اے رضا یہ احمد نوری کا فیض نور یے
ہوگئی میری غزل بڑھ کر قصیدی نور کا

عرس نوری میاں مارہروی علیہ الرحمہ پہ خصوصی تحریر،تعلیمات حضرت نوری میاں مارہروی کی عصر معنویت،تحریر ،شاداب امجدی برکاتی ،جامعہ احسن البرکات ما رہرہ شرہف

تعلیمات حضرت نوری میاں مارہروی کی عصری معنویت

مارہرہ شریف (ضلع ایٹہ) مغربی اترپردیش کا ایک مردم خیز قصبہ ہے، جہاں سے بہت سارے اولیاء، اقطاب، شعرا، ادبا، اور علما پیدا ہوئے اور ایک عالم کو اپنی شخصیت سے متاثر کیا ۔


حضرت میر عبد الجلیل بلگرامی ثم مارہروی بلگرام سے مارہرہ آباد ہوئے اور آپ کے خانوادے میں کثرت سے علما اور اولیا نے جنم لیا، بلکہ آپ کی اولاد و احفاد میں سے سات اقطاب ایک ہی گنبد کے نیچے آرام فرما ہیں جن سے زمانہ آج بھی فیض پا رہا ہے۔
انہیں میں ایک قطب وقت، خاتم اکابر ہند، امام العارفين حضرت سید ابو الحسين احمد نوری آل رسولی رضی اللہ عنہ کی ذات ستودہ صفات بھی ہے۔


آئیے ان کے اقوال و ارشادات کی عصری اہمیت کو ملاحظہ کریں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں ۔


آج قوم مسلم عصری تعلیم کے لیے بیدار ہوئی ہے لیکن دینی تعلیم سے یکسر بے التفاتی کرنے لگی ، ناظرہ قرآن پڑھ لینا کافی سمجھا جانے لگا ہے، سرکار نور ‘سراج العوارف فی الوصايا و المعارف’ کی چوتھی وصیت میں فرماتے ہیں کہ ” کتاب و سنت سے اپنی ضروریات بھر علم دین حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں اور اس کام کو سب کاموں پر مقدم رکھیں کیونکہ جاہل صوفی اور بے علم عابد شیطان کا مسخرہ اور بالکل نکما اور نا قابل قبول ہے۔


موجودہ زمانے میں قوم مسلم طرح طرح کی آزمائشوں میں مبتلا ہے، اس کے اسباب و علل تو کئی ایک ہیں جس میں سب سے اہم یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی زندگی کو احکامات قرآن اور اسوہ رسول سے ہٹ کر گزارنی شروع کردی ہے اور فیصلے علما سے نہیں بلکہ سرکاری کچہریوں سے ہونے لگے جس کے بعد ذلت و خواری قوم کا مقدر بن گئی ؛ سرکار نور چھٹے وصایا میں فرماتے ہیں کہ “جھگڑوں کو ختم کرنے اور لڑائیوں سے دور ہونے کے لیے موجودہ دور کے محکموں میں مقدمات نہ کریں بلکہ قرآن شریف اور رسول اللہ ﷺ کی سنت و شریعت یعنی حدیث، فقہ، اصول اور تفسیر سے رجوع کریں اور ان کی روشنی میں معاملات طے کریں “۔


آج اہل سنت و جماعت کے اندر بہت سے افراد ایسے ہیں جو عقائد حقہ پر مضبوطی کو درستی کی نظر سے نہیں دیکھتے اور بلا ضرورت شرعیہ باطل فرقوں سے میل جول اور ربط و ضبط رکھتے ہیں اور دین پر سختی سے عمل کرنے والوں کو ذلیل و رسوا کرتے ہیں، اس سلسلے میں سرکار نور کا فرمان ہے “اپنے سچے دین پر اتنے سخت اور مضبوط ہوں کہ دوسرے متعصب جانیں اس لیے کہ دین حق میں مضبوطی پسندیدہ بات ہے اور دین باطل پر مضبوطی حماقت اور بری چیز ہے _ فاسق فاجر، بد کردار، کافر اور مشرک سے اپنے آپ کو دور رکھیں خاص طور سے دین اسلام میں کھلم کھلا فاسق، کافر اور مشرک کی صحبت اور ان سے محبت کرنے سے دور رہیں کیونکہ بری صحبت مقناطیس اور لوہے کی مثل ہے یعنی بری صحبت بری عادت کی طرف ایسے کھینچتی ہے جیسے لوہے کو مقناطیس _ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ‘ لا یتخذ المؤمنین الکافرین اولیاء من دون المؤمنین’ ( مسلمان مسلمانوں کے علاوہ کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں) ۔ اس آیہ شریفہ پر عمل کریں تاکہ ہلاکت کے اندھے راستے سے نجات پائیں “۔

فضائل سیدنا غوث اعظم فتاوی رضویہ کی روشنی میں،مطالعہ فرمائیں


آج عوام میں ایک عجب سوچ چل پڑی ہے کہ علما ( مولوی صاحبان) کا ہر محفل میں مذاق بنائے رہتے ہیں، ان کی داڑھی، ٹوپی کا تمسخر کرتے ہیں، اس بارے میں سرکار نور نے فرمایا کہ ” دین کا مذاق اڑانا کفر ہے، اسی طرح احکامِ دینی کو معمولی سمجھنا جیسے آزاد طبیعت، داڑھی اور عمامے پر ہنستے ہیں ۔ ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں


اے میرے قوم کے لوگو! دین اور دین کے خادموں کے بارے میں بہت سوچ سمجھ کر کچھ کہا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ انجانے میں تم اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھو ۔


ادھر گزشتہ چند سالوں سے ہمارے بہت سے احباب اہل سنت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق سوء ظن میں مبتلا ہوگئے ہیں اور یہ ایسی بیماری ہے جو ایمان کی صحت کے لیے ہلاکت خیز ہے، ان احباب کی بارگاہ میں خلوص دل کے ساتھ سرکار نور کا یہ قول پیش ہے، پڑھیں اور حق پہچانیں، آپ فرماتے ہیں ” مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیاء کے قول پر بھروسہ کریں کہ یہی صوفیا کے لیے کافی ہے اور سند ہے ۔ محبوب الٰہی کے ملفوظات” فوائد الفوائد” میں ہے کہ بندہ ( امیر حسن علا سنجری) نے عرض کیا کہ امیر معاویہ کے بارے میں ہمیں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے؛ فرمایا وہ مسلمان تھے اور صحابہ کرام میں تھے اور حضور علیہ السلام کی زوجۂ محترمہ کے بھائی تھے؛ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا آپ کی بہن تھیں اور نقل کرتے ہیں کہ وہ حرم نبی ﷺ میں تھیں ۔

سراج السالکین حضرت سید ابولحسین نوری میاں رحمۃ اللہ علیہ،مضمون کا مطالعہ کریں


سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں بہت سی برائیاں عام ہوئیں وہیں لطیفہ گوئی اور ہنسی مذاق کے قصے بھی خوب عام ہوئے اور لوگ لطیفہ بازی اور  کے چکر میں اس حد تک گر گئے کہ جھوٹ اور دروغ گوئی میں بھی عار محسوس نہیں کرتے جو بہت افسوسناک ہے؛ سرکار نور فرماتے ہیں ” ایسا مذاق نہ کرو جو فضول، بیہودہ، بیکار اور بے فائدہ ہو، خاص طور سے ایسا مذاق ہرگز نہ کرو جس میں جھوٹ، تہمت، کسی کی تکلیف رسانی اور بد تہذیبی پائی جائے یہ حرام ہے لیکن ایسا مذاق جو ممنوعات شرعیہ سے پاک ہو کبھی کبھی اپنے دوستوں کا دل اور اپنی طبیعت خوش کرنے کے لیے ہو تو اس میں حرج نہیں، مباح و جائز ہے مگر اس کی عادت نہ ڈالے کہ ہزل اور بے ہودہ گوئی سے رعب و وقار کو ٹھیس لگتی ہے “۔
یہ وہ اقوال زرّیں ہیں کہ ان پر عمل کرکے ہم اپنی زندگی کو چاندی کی طرح چمکا سکتے ہیں،

اللہ ہمیں توفیق دے۔ آمین

بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

View Comments