حضرت اسود الراعی رضی اللہ عنہ کے اسلام و شہادت کی ایمان افروز داستان

حضرت اسود الراعی رضی اللہ عنہ کے اسلاموشہادت کی ایمان افروز داستان

الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰۃ والسلام علیک یاحبیب اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 

حضور رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ خوش  نصیب صحابی ، جن کو نماز،روزہ،حج ،وزکوۃ کا موقع نہ ملا،وہ کون صحابی ہیں ؟ جاننا چاہتے ہیں؟ حضرت اسود الراعی رضی اللہ عنہ کے اسلام و شہادت کی ایمان افروز داستان  مکمل مضمون کا مطالعہ کریں  ایمان تازہ ہوجائے گا ،ثواب کی نیت سے ضرور شیئر کریں 

حضرت اسود الراعی رضی اللہ عنہ کے اسلام و شہادت کی ایمان افروز داستان

  شریر قوم یہود قلعۂ خیبر کو اپنی پناہ گاہ بناکر اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف تھی، مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو بغاوت پر ابھارنا اور روز ایک نیافتنہ کھڑا کرنا ان کا محبوب ترین مشغلہ بن گیا تھا۔ پھر بعض اور بھی ایسے

اسباب پیدا ہوگئے تھے کہ خود سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جاں نثاروں کے ساتھ ان بدقماشوں کا تعاقب فرمانا ضروری سمجھا چنانچہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر پہنچ کر ان ظالموں کے خلاف محاذ آرا ہوئے تو وہ سب میدان میں مقابلہ کرنے کے بجائے بھاگ کر قلعہ بند ہوگئے اور آپنے قلعۂ خیبر کا محاصرہ فرمالیا۔

  اسی درمیان ایک روز جب خورشید نبوت اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ نور کی خیرات تقسیم فرمارہاتھااورفقیران بارگاہ پروانوں کی طرح اس کی بے مثال کرنوں سے حسن زندگی کی رعنائی وصول کر رہے تھے۔

 کہ ایک حبشی جو وضع قطع  سے ایک معمولی قسم کا آدمی بلکہ بکریوں کاچرواہا معلوم ہورہاتھا،کمال ادب و تعظیم سے قریب تر ہوتا چلا آرہاتھا یہاں تک کہ وہ شمع رسالت سے اتنا قریب ہوگیاکہ اس کی پرکشش شعاؤں سے اس آنے والے کے دل ودماغ کی کائنات منور ہوچکی تھی ۔

اس بارگاہ کا وقار وتقدس اور جلال وجمال کی تجلیوں نے آنے والے پر حیرت واستعجاب اور خوف ومسرت کی ایک ملگجی کیفیت طاری کر دی تھی اور یہ دیکھ کر اس کے تخیلات زیر وزبر ہورھے تھے کہ جس ہستی کے نام سے عرب وعجم کے بڑے بڑے رؤسا وسردار سہمے جاتے ہیں ان کی بارگاہ میں سادگی وبے تکلفی کی یہ کیسی برسات ہورہی ھے؟

 اس نے دیکھا کہ یہاں نہ تو کوئی تخت بچھا ھے جس پر وہ عالی وقار ہستی تشریف فرما ہوتی، اورنہ دنیوی بادشاہوں کےدرباروں جیسا کوئی طرزِسلامی کہ لوگ سجدے کی حدتک جھکے نظر آتے، نہیں بلکہ زمین پر ایک سادہ سی چادر بچھی ہوئی ھے اور وہ ذات پوری شان نبوت کے ساتھ اس پر جلوہ فرماہے ۔

اس کے آس پاس یقین اور حوصلے کی دولت سے مالامال جوانمردوں کی ایک جماعت ھے جس میں امیر وغریب،گورے وکالے ،عربی وعجمی سب کو برابری کا درجہ حاصل ھے اوراس متبرک ذات کاسحاب کرم ہر ایک کی زراعت تمناکوبرابر سیراب کررہاھے۔

وہ یہ بھی دیکھ رہاتھا کہ حاضرین میں سے ہرایک اس ہستی کی ایک ایک ادا نہار رہاھے اور اس کی جانب یوں تکتا جارھاھے کہ جیسے اس جہان رنگ وبو میں اس کے سوا دیکھنےکی اور کوئی حسین شئے ہے ہی نہیں، نہ اس کے سوا ان سب کی زنگی کا اور کوئی مقصد۔ 

نووارد پر اس ماحول کا ایسا گہرا اثر مرتب ہوا تھاکہ زبان اس کے احساسات کی ترجمانی سے قاصر نظر آرہی تھی ،ہاں اس بزم تک رسائی پر وہ بیحد نازاں تھا جس کی شدت مسرت سے اس کا سارا وجود تھر تھر کانپ رہاتھا۔

مارے خوشی کے اس کی آنکھوں سے اشکوں کے دھارے بے اختیار بہہ پڑے تھے جسم کے رونگٹے شادمانی سے رقص کناں تھے اور وہ چاہ کر بھی خود کو سنبھا
نہیں پارھاتھا۔

سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم،مکمل مضمون کا مطالعہ فرمائیں

  وہ بے تابانہ قریب ہوتا گیا،بہت قریب،اتناقریب کہ بوسہ گاہ جبریل علیہ السلام یعنی قدم نازمصطفے جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے تھراتے ہونٹ بوسہ دینے کے قریب تھے، وہ جان گیا تھا کہ یہ بڑی کامیابی کی بات ھے۔

اب اظہار تمنا میں دیر نہیں کرنا چاہئے ، لہذا اپنی مراد زیست کو سامنے پاکر وہ بمشکل اتناکہہ سکا
يا رسول الله!،أعرض عليَّ الإسلام  :یارسول اللہ مجھے داخل اسلام فرما لیجئے

نبی رحمت بے کسوں کے والی، بے سہاروں کا سہارا ،غمزدوں کو خوشخبری دینے والے آقا،یتیموں کے والی، آزردہ خاطر وں کی جائے پناہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم

جن کی بارگاہ دعوت میں نہ کوئی کمتر ہوتا نہ حقیر آپ نے جب دنیا کےٹھکرائے ہوئے اس نوارد کا اسلام قبول فرمالیا اور اپنے سینے سے لگاکر اسے بشرط ثبات ایمان مژدۂ جنت سنایا توہفت اقلیم کی بادشاہت اس کو ہیچ نظر آئے لگی اور آسمان کی
بلندیاں بھی اس کے نصیبے کے اقبال پر رشک کرنے لگیں۔

واقعی ھے بھی یہ فخر کی بات کہ ابھی چند لمحے قبل جس فرد کی حیثیت ایک معمولی چرواہے کی تھی وہ اب ارشاد قرآنی کے مطابق رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ
 کی حد بشارت میں داخل ہوکر صحابی کے لقب سے ملقب ہوچکاچکا تھا۔

  یہ بخت آور اور خوش نصیب انسان حضرت اسود الراعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جو خیبر کے ایک یہودی سردار کی بکریاں چرانے پر ملازم تھے اور ابھی تک ان کی حیثیت محض ایک چرواہے کی تھی لیکن راہ حق کی جستجو میں ہمہ وقت سرگرداں رہتے ہوئے آخر سعادت ازلی کی موافقت سے دولت ایمان سے مشرف ہوگئے ۔

   دامن اسلام سے وابستہ ہونے کے بعد اب ان کو اپنے پیشے سے کوئی دلچسپی نہیں رہ گئ تھی اورنہ اس ذلت بھری زندگی کی طرف وہ دوبارہ لوٹنا چاہ رھے تھے بلکہ اب ان کے دل میں اسلام کی بقا وسربلندی کے لئے کوئی شاندار کردار ادا کرنے کی امنگ جنم لے چکی تھی یا پھر راہ حق میں لڑتے ہوئے جام شہادت پینے کا خیال ان کے سینے میں موجزن ہوچکاتھا۔ 

اے غافل انسان ہوش میں آ،مکمل مضمون کا مطالعہ کریں 

 

اس لئے ان سے یہ تو نہیں ہوسکتاتھا کہ پھر سے بکریوں کا ریوڑ ہانکتے ہوئے واپس اسی راستے پر چلدیں جس سے آئے تھے ہاں فی الحال حصول مقصد کا ایک ذریعہ بالکل سامنے تھاجس کو بآسانی اپنا سکتے تھے، وہ تھا مجاھدین کی صف میں شامل ہوکر جنگ خیبر میں حصہ لینا اور یہی ان کا حتمی وآخری فیصلہ ٹھہرا بھی۔

داخل اسلام ہونے کے چند ہی ساعت بعد انھوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی یارسول اللہ ! میں بھی بصد شوق اس مہم کا حصہ بننا چاہتاہوں جس کی قیادت حضور بنفس نفیس فرمارھے ہیں مگر میرے پاس فلاں یہودی جو اس وقت قلعہ کے اندرھے۔ 

اس کی بکریوں کا ریوڑ ھے جس پر اس نے مجھ کو امین بنایا ھے اور میں نے حالت کفر میں خیانت نہیں کی ھے اب تو دامن اسلام سے وابستہ ہوچکا ہوں لہذا اگر میں نے اس کے ریوڑ کو واپس نہیں کیا تو وہ مجھے اور میرے دین کو خیانت سے متہم کرے گا اور میرا حال یہ ھے کہ جب تک میں اللہ کی راہ میں جنگ نہ کر لوں اس ملازمت کی طرف لوٹنا نہیں چاہتا۔

 

سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی بکریاں اس کی طرف ہانک دو وہ اپنے مالک کے پاس از خود پہنچ جائیں گی اور تم برئ الذمہ ہوجاؤگے 

یہ حکم سنتے حضرت اسود الراعی رضی اللہ عنہ کا چہرہ خوشی سےدمکنےلگاپھر فرمان آقا کے مطابق بکریوں کے ریوڑ کا رخ قلعے کی طرف کرکے ایک مشت خاک اس پر پھینکتے ہوئے یہ کہکر ہانک دیا کہ تم اپنے مالک کی طرف جاؤ اور میں اپنے رب کی طرف جاتاہوں  

اورجب دیکھاکہ بکریوں کا ریوڑ دھیرے دھیرے چلتاہوا قلعے کی دیوار کے سائے میں جاکر بیٹھ گیا تو ان کوگویا اطمینان ہوگیا کہ اب وہ اپنے مالک تک پہنچ چکاہے اورمیں الزام خیانت سے محفوظ ہو گیا۔

  حضرت اسود سے ریوڑ کی نگہبانی کی فکر دور ہوچکی تھی اور اب ان کے پاس راہ حق میں خود کو لٹانے کا، اسلام کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے کا اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سرخ روئی حاصل کرنے کا سب سے مناسب اور سنہرا موقع تھا جبکہ بارگاہ رسالت سے بھی اذن ہوچکاتھا اس لئے اب وہ ایک اسلامی سپاہی کی حیثیت سے اعلاء کلمۃ الحق کی خاطر بڑے مجاہدانہ تیور کے ساتھ آگے بڑھنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے مجاھدین اسلام کی صف میں شامل ہوکر داد شجاعت دینے لگے۔

  اسلام لانےکے بعد فوری طور پر میدان جہاد میں ان کے اس طرح نزول ہونے کی سعادتمندانہ جسارت پر اپنے دینی بھائیوں کی طرف سے تحسین و آفرین کے کلمات ان کے جوش جہاد اور جذبات شہادت کو مزید ہوا دے رھے تھے، اور قوم یہود اللہ کے دشمن کے خلاف ان کا غصہ مشام جسم سے شعلے کی طرح پھوٹ رہاتھا گویا اب وہ ایک ~فیصلہ کن معرکے کا حصہ بنناچاہ رھے تھے جس کے بعدکھونے کے لئے کچھ بھی نہ بچے ۔

   گھماسان کی لڑائی شروع ہوچکی تھی،ان کی آرزؤں کا چمن مشکبار ہو چلاتھا، اسلامی لشکر پوری جوانمردی کے ساتھ قلعے کی فصیل کی طرف سبقت کررہاتھا جس کے اوپر سے پتھروں اور تیروں کی بے تحاشا~ بارش ہورہی تھی ۔ 

حضرت اسود مکمل بہادری کے ساتھ شجاعت کے جوہر لٹارھے تھے، ان پر ایک ایسی کیفیت طاری تھی گویاوہ جنت کی خوشبو بہت قریب سے صاف صاف محسوس کر رھے ہیں وہ اسی میں مگن ہوکر آگے بڑھتے  جار رھے تھے کہ اچانک ایک بڑا وزنی پتھر قلعہ کی طرف سے آکر ان کےسرسےاس زور سے ٹکرایاکہ زخمی ہوکر زمین پر گر پڑے۔ 

انصاف سب کی ضرورت سب کی ذمہ داری،مضمون کا مطالعہ کریں

 ضرب اس شدید کی تھی کہ جسم مبارک سے لہو کے فوارے جاری ہوگئے، لیکن ان کے چہرے پر سکون وطمانیت کی ایک ملکوتی چمک ہویدا تھی، لبوں پر ایک شگفتہ مسکراہٹ پھیل گئی تھی اور آنکھوں سے جھانکتا ہواجام شہادت کا خمار گویا ان کی دائمی  وظفرمندی کی داستان سنارہاتھا۔ 

پھر ہوا یوں کہ سانسوں کی لڑی بکھر گئی، نبض کی رفتار رک گئی، جسم کے جوڑے منتشر ہوگئے اور بارش رحمت کے سائے میں طائر روح قفص عنصری سے پرواز کر کے ہم آغوش خلد بریں ہوگیا  انا للہ واناالیہ راجعون

دن ڈھلنے کے ساتھ ساتھ جب اس دن جنگ ختم ہوئی اور وفاشعاران اسلام اس عاشق صادق حضرت اسود الراعی کی جسد مبارک کو اٹھاکر بارگاہ رسالت میں لے آئے تو آقا دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے انداز دید میں اس شہید فی سبیل اللہ کے لئے دعا وقبولیت کے آثار نمایاں تھے اور دوسرے مجاہدین کی نگاہوں میں تشکر و امتنان کے جذبات۔

  دفعۃ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے روئے انور جو ابھی تک شہید کے جسم کی طرف تھا،، دوسری جانب پھیرلیا جس پر شرم وحیاء کی لالی فردوس بریں کا نظارہ پیش کر رہی تھی۔

مجمع صحابۂ میں اب ایک سناٹا چھا گیا، ہر فرد کی پیشانی پر فکر واضطراب کی سلوٹیں ابھر آئیں ، الٰہی یہ کیا ہوا کہیں اس بہادر کی جان کا نذرانہ رائگاں تو نہیں گیا؟ 

مولائے کریم اپنے حبیب کو ہم سے راضی کردے ! اسی تذبذب کے عالم میں حاضرین میں سے ایک نے آگے بڑھ کر کمال ادب واحترام کے ساتھ عرض گزار ہوا ،یا رسول اللہ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! حضور کا چہرۂ اقدس کو دوسری جانب پھیر لینے کا فلسفہ ہماری سمجھ میں نہیں آیا آقا کریم اس کی عقدہ کشائی فرماکر ہم غلامان بارہ گاہ کی درماندگی کو دور فرمائیں 

اس عریضے پر آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے مجمع سے مخاطب ہوکراس راز کو یوں افشاں فرمایا کہ  مَعَهُ لَزَوْجَتَهُ مِنَ الحُورِ العِينِ ائے اللہ ورسول کی رضا کی خاطر زمانہ سے ٹکرانے والو اسود سے ہٹاکر چہرہ دوسری طرف کرنے کی وجہ یہ تھی کہ میں نے دیکھا کہ حورعین میں سے اس کی آخرت کی بیوی اس سے لپٹ لپٹ رہی تھی جس منظر  کو دیکھ کر مجھے حیاء آگئی تھی۔

یہ سنتے ہی حاضرین میں ایک بار پھر اللہ کی حمد وثناء اور حضرت اسود کے تئیں تحسین ومرحبا کی صدائیں گونج اٹھیں گویا وہ کہہ رھے تھے۔

دل ھے وہ دل جو تیری یاد سے معمور رہا
سرھے وہ سرجو تیرے قدموں پہ قربان گیا

ابن ہشام کہتے کہ یہ وہ دوسرے خوش نصیب صحابی ہیں جن کو نماز و روزے کا موقع ملا نہ حج و زکوٰۃ کا بلکہ صرف یہی فی سبیل اللہ اترنے کا یہ عمل ان کے حصے میں آیاتھا اور یہی نیکی ان کی دائمی کامیابی کا سبب بن گئی۔

اقبال نے کیا خوب کہا

بمصطفے برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر باو نہ رسیدی تمام  بولہبی است
————————————————-
          تحریر
محمد احمد رضا مصباحی حنفی دیناجپوری
جامعہ اہلسنت ضیاءالعلوم کربلا روڈ کا لپی شریف

 

GHULAM SAMDANI: جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا