حضور مفئ اعظم

حضور مفتئ اعظم اور راہ عزیمت و استقامت

حضور مفتی اعظم اور راہِ عزیمت و استقامت مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں اعظمی کی کتاب “ذکرِ حضور مفتی اعظم ہند” فقہی تدبر و بصیرت پر علمی شاہکار
 
(بموقع : عرسِ حضور مفتی اعظم)    از قلم،غلام مصطفیٰ رضوی 
نوری مشن مالیگاؤں
 

حضور مفتئ اعظم اور راہ عزیمت و استقامت

حیاتِ حضور مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا ہر گوشہ روشن و درخشاں ہے- آپ کی تقویٰ شعار زندگی مشعلِ راہ اور نمونۂ عمل ہے- جس پر آپ کے تلامذہ، خلفا اور مریدین کے مشاہدات کے کثیر اوراق موجود ہیں- مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ) نے اپنی کتاب “ذکرِ حضور مفتی اعظم ہند” میں اپنے مرشدِ گرامی کی حیاتِ طیبہ کے کئی ایسے پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے؛

جس سے اسلامی روایات و قوانین کے تحفظ کے لیے حضور مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کے متعدد ابواب اجاگر ہوتے ہیں- اور دین متین کی تقویت کا سامان مہیا ہوتا ہے- ١٤۱۰ھ میں میں ممبئی کی سرزمین پر مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں خان اعظمی کا ایمان افروز و سنجیدہ خطاب ہوا تھا؛

جس میں آپ نے فقہ اسلامی کے تحفظ کے لیے حضور مفتی اعظم کی فقہی بصیرت و استقامت فی الدین کے کئی گوشے اجاگر کیے- اسے تحریر کا پیرہن حضرت مفتی محمد اشرف رضا قادری ممبئی نے زیب کرایا- ٣٢ برسوں پہلے دارالعلوم امام احمد رضا ممبئی نے اس خطاب کو تحریری شکل میں شائع کیا۔ مدت سے یہ کتاب نایاب و کمیاب تھی- نوری مشن مالیگاؤں سے اس کی افادیت کے پیشِ نظر عرسِ حضور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ پر اشاعت عمل میں آ رہی ہے- قدیم مطبوعہ نسخہ کی فراہمی کے لیے علامہ محمد عبدالمبین نعمانی صاحب کے ممنون ہیں- اس کتاب کے بعض پہلوؤں پر یہاں روشنی ڈالی جاتی ہے


(١) فقہ اسلامی میں زمانے کی رعایت کی آڑ میں اسلامی قوانین سے انحراف کی فضا تشکیل دی جا رہی ہے؛ علامہ قمرالزماں اعظمی فرماتے ہیں: “اسلام کو معذرت کا مذہب بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اسلام کو منزل اعتذار میں لاکر کھڑا کر دیا گیا ہے۔”   حضور مفتی اعظم نے عزیمت و استقامت کی راہ اختیار کی؛ علامہ اعظمی فرماتے ہیں:  “اے سرکار مفتی اعظم ہند! ہم آپ کی عظمتوں کے قربان کہ زمانہ رُخصتیں تلاش کر رہا ہے۔ جواز تلاش کر رہاہے۔ مذبوحی حرکتیں کر رہاہے۔ اباحتیں تلاش کر رہا ہے۔ دارالافتاء بک گئے ہیں۔ درس گاہیں فروخت ہو گئی ہیں۔ اور قوموں کا وقار یقیناً غیروں کے دروازہ پر قربان کیا جا رہا ہے۔ مگر آپ نے مسائل میں ہمیشہ عزیمتوں کا راستہ دکھایا ہے، رُخصتوں کا راستہ نہیں دکھایا ہے۔”


(٢) فقہ حنفی جو فقہ کی اساس ہے؛ اس کی حفاظت کے لیے مفتی اعظم کی مساعی جمیلہ کے ضمن میں علامہ اعظمی کہتے ہیں: ” آج اگر سرکار امام ابو حنیفہ اپنی ظاہری زندگی کے ساتھ جلوہ افروز ہو جائیں تو یقیناً اپنے اس روحانی فرزند کو اپنی آنکھوں سے لگا لیں گے۔ یقیناً اپنے سینوں سے لگا لیں گے۔ اس لیے کہ آج بھی بریلی کا دارالافتاء دراصل بریلی کا دارالافتاء نہیں ہے؛ بلکہ بغداد میں امام اعظم کے دارالافتاء کی ترجمانی کر رہا ہے۔”  وجہ یہی ہے کہ دارالافتاء بریلی اقتدار باطل کے آگے سرنگوں نہیں ہوا؛ شریعت مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا حکم برملا صادر فرمایا- نسبدی سے متعلق حضور مفتی اعظم کا فتویٰ اس پر شاہد ہے- علامہ اعظمی اسی رخ سے فرماتے ہیں:”بریلی تنہا وہ مقام ہے جہاں سے فقہ کی آبرو رکھی جاتی ہے۔ اُصولِ فقہ کی آبرو رکھی جاتی ہے…… آج بھی حنفیت کو تحفظ دیا جا سکتا ہے۔ اسلامی شریعت کو تحفظ دیا جا سکتا ہے تو اعلیٰ حضرت کے مشن کی بنیاد پر؛ حضور مفتی اعظم ہند کے مشن کی بنیاد پر۔”


(٣) دُنیا کی باطل قوتوں نے چاہا کہ درس گاہوں کو سرنگوں کر دیں؛ اسلامی دانش گاہوں کا تشخص ختم کر دیں؛ دارالافتاء کو جھکا لیں… اس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے- یہی سبب ہے کہ عرب ممالک کے کئی مراکز ایسے فتوے جاری کرتے ہیں جن سے یہود و انگریز کے کاز کو تقویت ملتی ہے- حضور مفتی اعظم نے مصالحت کو راہ نہیں دی؛ بلکہ حکم شریعت کے تفوق و برتری کو پیش نظر رکھا- استقامت فی الدین کی اسی جہت کو علامہ اعظمی ان لفظوں میں بیان کرتے ہیں: “اعلیٰ حضرت کے تفقہ کی عملی مثال سیدنا سرکار مفتی اعظم ہند نےدُ نیا کے سامنے ثابت کر دیا ہے کہ پہاڑ اپنے مقام سے ہٹ سکتا ہے

مگر شریعت کا کوئی جزئیہ اپنے مقام سے ہٹ نہیں سکتا۔ شریعت کا کوئی بھی مسئلہ اپنی جگہ سے ٹل نہیں سکتا۔ یہ وہ استقامت فی الدین تھی جو آج دُنیا کی نگاہوں میں کھٹک رہی ہے۔”  بہر کیف! موجودہ حالات میں تصلب دینی اور فقہ اسلامی کے فیصلوں پر استقامت سے ہی ہم اپنے اسلامی وقار کا تحفظ کر سکتے ہیں- مصالحت اور معذرت خواہانہ انداز مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا باعث بنے گا- اس لیے حضور مفتی اعظم کے تفقہ فی الدین اور تصلب فی الدین کا باب ہم سب کے لیے مشعلِ راہ اور استقامت کا روشن مینار ہے-  مذکورہ کتاب کئی جہتوں سے افادیت کی حامل ہے؛  تحفظ شریعت اسلامی کے تئیں حضور مفتی اعظم کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے اس کی توسیع وقت کی اہم ضرورت ہے

 مزید مطالعہ کریں،،لنک پر کلک کریں

سمت قبلہ اور امام احمد رضا

حدیث افطار اور امام احمد رضا

عقیدہ توحید اور امام احمد رضا

علم فلکیات کا ارتقا باب احمد رضا تک

شان حضور مفتی اعظم ہند

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top