Categories: اردو مضامین

دینی جلسوں کی یہ روش بدلنے کی ضرورت یے

الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

آج اہلسنت کے نوے فیصد جلسے اور دینی پروگرام عموما اسی نظریئے کے شکار ھیں جس کا اثر عام طبقہ اہلسنت پر یوں مرتب ہوتا دیکھائی دے رہا ہے کہ فرائض کی ادائے گی کی اہمیت اس طبقے کی نگاہ میں گھٹ کر رہ گئی ھے نتیجۃً غیرضروری امور کی ادائے گی میں ہمارے یہاں ایک زبردست بھیڑ اکٹھی نظر آتی ھے اور مسجدیں خالی و ویران۔  دینی جلسہ کیسا ہونا چاہیے ؟ اس مکمل خوبصورت  کا مطالعہ کریں دینی جلسوں کی یہ روش بدلنے کی ضرورت یے  جس کو مصلح قوم وملت ناشر مسلک اعلیٰ حضرت حضرت مفتی احمد رضا مصباحی نے مرتب کیا یے رب العالمین مفتی صاحب کی علم و عمل میں بی پناہ برکتیں عطا فرمائے 

دینی جلسوں کی یہ روش بدلنی کی ضرورت یے

دینی جلسوں میں شعائر دین کی تشریح ، فرائض و واجبات کی اہمیت اور ترغیب وترھیب کا بیان لازمی طور پر ہونا چاہئے ورنہ پھر اسے دینی جلسہ کہنے کا کوئی مطلب نہیں بنتا مگر اس کی جگہ علی العموم جو باتیں سننے کو ملتی ہیں وہ کچھ اس طرح کی ہوتی ہیں ۔

 

  تم چاھے جتنی بھی نمازیں پڑھ لو روزے رکھ لو اور حج وزکاۃ کے اعمال کرلو مگر تمھیں جنت نہیں مل سکتی جب تک کہ تم کسی پیر کامل کے ہاتھ پر بیعت نہ کرلو 
 اگر نماز روزہ پاس نہ بھی ہو لیکن کسی پیر کا دامن ہاتھ میں ہو تو جنت مل کر رھے گی 
 اگر جنت میں جانا چاہتے ہو تو ایک بار دونوں ہاتھ لہرا کر سبحان اللہ کہدو !وغیرہ وغیرہ 
اس طرح کی باتیں آجکل کے خطباء حضرات کی تقریروں میں بالکل عام ہیں بلکہ اگر اس مجلس میں کوئی پیر صاحب رونق افروز ہیں تو خطیب صاحب کا تیور خطاب اس قدر شعلہ بار اور لب ولہجہ اس درجہ پر تیقن ہوگا کہ سننے والے کے لئے یہ تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ اس وقت جنت کی کنجیوں کا گچھا یہی پیر صاحب اپنے بغل میں دبائے بیٹھے ہیں وہ جس کو چاہیں گے باغ جنت کی سیر کرا ئیں گے جس کو چاہیں گے جہنم میں جھونک دیں گے ،جو ان سے مرید ہوگا وہ جنت کا مستحق بنے گا اور جو ان سے دور رھے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔


آج اہلسنت کے نوے فیصد جلسے اور دینی پروگرام عموما اسی نظریئے کے شکار ھیں جس کا اثر عام طبقہ اہلسنت پر یوں مرتب ہوتا دیکھائی دے رہا ہے کہ فرائض کی ادائے گی کی اہمیت اس طبقے کی نگاہ میں گھٹ کر رہ گئی ھے نتیجۃً غیر

ضروری امور کی ادائے گی میں ہمارے یہاں ایک زبردست بھیڑ اکٹھی نظر آتی ھے اور مسجدیں خالی و ویران۔


بغور دیکھئے تو اس طرح کی تقاریر سے گویا عوام الناس یہ عقیدہ بناچکی ھے کہ فرائض و واجبات کی ادائے گی اگر ہم سے نہ بھی ہوسکے تو کوئی بات نہیں بس کسی پیر صاحب کی بیعت وارادت اور عرس وآستانوں کی حاضری ہماری نجات کے لئے کافی ھے۔
حالانکہ شرع مطہرہ اس طرح کے فضول اور من گھڑت افکار وخیالات کا رد کرتی ھے جو ایک مسلمان کو فرائض و واجبات سے غافل کر دے۔ اور عملی جد جہد سے نکال کر خوش فہمی کی بیماری میں مبتلا کردے ۔۔

 

مفتی  احمد رضا مصباحی کے مضمون،فرضی مزارات کا بڑھتا دائرہ اہل سنت کے لئے لمحئہ فکریہ ،کا یہاں کلک کرکے مطالعہ کریں


جبکہ اس بات سے جرأت انکار کسی کو بھی نہیں ہو سکتی ھے کہ قرآن مجید ایمان کے بعد اعمال خیر کی بات کرتا ھے اور جنت کی بشارت و اس کی تمام تر آسائش ونعمتیں بھی اسی کے لئے ھیں جو اعمال صالحہ کا ساعی وداعی ہو ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ارشاد باری ھے :وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍ رِّزْقًا قَالُوا هَـٰذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ :اور خوشخبری دے، انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے، کہ ان کے لئے باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں رواں جب انہیں ان باغوں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا، (صورت دیکھ کر) کہیں گے، یہ تو وہی رزق ہے جو ہمیں پہلے ملا تھا اور وہ (صورت میں) ملتا جلتا انہیں دیا گیا اور ان کے لئے ان باغوں میں ستھری بیبیاں ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔(البقرة: ٢٥)۔


إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ : بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے اور نماز کی اور زکوۃ ادا کی ان کا اجر ان کے پروردگار کے پاس ہے ان پر نہ کوئی خوف ھے نہ انھیں کسی بات کا غم﴿البقرة: ٢٧٧﴾۔


اس مضمون پر مشتمل قرآن مجید کی پچاسوں آیتیں ہیں جو پکار بکار کر کہہ رہی ہیں کہ آئے ایمان والو نیک عمل کرو یہ تمھارے رب کا حکم ھے۔۔


واضح رھے کہ اعمال صالحہ میں نماز کا مقام پہلا ھے اور اللہ رب العالمین نے سب سے زیادہ تذکرہ اسی عبادت کا فرمایا ھے جو قرآن مجید کی تلاوت ومطالعہ کرنے والوں پر عیاں ہے۔ اسی طرح زکٰوۃ ،روزہ ،حج، عمرہ، طواف، والدین کی خدمت گزاری، مساجد کی آبادکاری سمیت حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ایک تفصیلی فہرست قرآن مجید کے پاروں میں موجود ھے اور احادیث طیبہ میں اس کی مکمل تشریح بھی جس کی طرف توجہ دینا ہر فرد کے لئے شرعاضروری ھے مگر افسوس کہ اس کی طرف سے مسلسل تغافل کشی اور بے اعتنائی کا ایسا مظاہرہ ہورہاھے جس کا بیان ممکن نہی۔۔

عقیدہ توحید اور امام احمد رضا،مکمل مضمون  کا مطالعہ کریں


میں یہ نہیں کہتا کہ دینی جلسو کا دور ختم ہونا چاھئے یا اعراس کی محفلیں بند کر دی جائیں یا پھر مشائخ اہلسنت سے دوری اختیار کی جائے نیز بیعت وارادت ، عرس، فاتحہ، چادر، گاگر اور جلسے و جلوس کی رسمیں غیر شرعی اور فضول ہیں بلکہ یہ اپنی جگہ مسلم اور تعمیر دین کے ذرائع ہیں لیکن یہ کہنے میں بالکل حق بجانب ہوں کہ دین میں ان چیزوں کی حیثیت بالکل ثانوی ھے اور ثانوی حیثیت کے معاملات کو اولیت دینا انھیں فرائض واجبات پر ترجیح دینا ظلم ونا انصافی ھے جس سے دین کی قدریں مجروح بلکہ لہولہان ہوجاتی ہیں۔


ذرا سوچئے کہ کیا یہ ظلم کی بات نہیں ھے کہ جن اعمال کی بنیاد پر قرآن وحدیث میں جنت کی بشارتیں وارد ہیں ان کے بیان کی بجائے آج کی کسی شخصیت کے محض دیدار ودست بوسی کو دخول جنت کا ذریعہ قرار دے دیا جائے؟
حقوق اللہ وحقوق العباد پر بات کرنے کی جگہ کسی بزرگ کے صرف آستانے کی حاضری کو جنت میں جانے کا ٹکٹ بتادیا جائے ؟
یا پیر مریدی کے نام پر ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے جو لوگوں کو مختلف گروہ میں تقسیم کر ڈالے اور ایک دوسرے کے پیر کی برتری ثابت کرنے کے لئے تنقیص واہانت مسلم کی راہ ہموار کی جائے ؟


اورخلاف شرع افعال پر کسی کے خلاف چاہ کر بھی زبان اس لئے بند رکھی جائے کہ اس پر پیر صاحب ہونے کا لبیل چسپاں ہے 
جبکہ دین کے منصوص شعائر کی تعظیم وتوقیر کئے بغیر صرف امور استحبابی کو غلوکی حد تک اپنا کر دین کے غلبے و توسیع کا خواب کبھی بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا ۔۔


آج دین اپنے ماننے والوں سے سب سے زیادہ یہ تقاضا کررہا ھے کہ اس کی تشریح وتعبیر انھیں الفاظ وجملے اور قصص وامثال سے کی جائے جو مستند اور متصل ہے۔

۔لہذا ضرورت ھے کہ حضار مجالیس وشرکاء جلسہ کے سامنے وہ حقائق بیان کئے جائیں جو ان کے دل میں غلامی رسول کی حرارت پیدا کر دے، انھیں فرائض وواجبات کا بھلا ہوا سبق یاد دلا دے اور ان کے اندر ایسی تڑپ پیدا کردے جو رب کی بارگاہ میں انھیں سجدہ ریز ہونے پر مجبور کردے ورنہ صرف گڑھی ہوئی کرامات کا ذکر بانیان جلسہ کی خوشنودی حاصل کرنے والی باتیں اور کسی نام نہاد شیخ طریقت کی فضلیت بیان کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کرنا کہ یہی سرمایۂ نجات ھے دین کے ساتھ بڑی نا انصافی ہوگی اور اس کا جواب خدائے قہار وجبار کے حضور دینا بہت مشکل ہوگا لیکن دینا ہوگا لہذا یہ روش یہ طریقۂ کار بہر حال بدلنا ہوگا ۔۔


آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ: یعنی تم سب کے سب نگہبان ہو اور تم سب سے اپنی اپنی زیر نگرانی امور کے متعلق پوچھا جائے گا (بخاری)۔


الہی ! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے روح کو تڑپا دے

تحریر 

محمد احمد رضا مصباحی حنفی دیناجپوری
جامعہ اہلسنت ضیاء العلوم کربلاروڈ کالپی شریف
ضلع جالون یوپی 8617008310

View Comments

  • ماشاء اللہ تعالیٰ
    ویب سائٹ خوب سے خوب تر کی طرف بڑھ رہا ہے. قیمتی مضامین شائع ہو رہے ہیں