Categories: اردو مضامین

عقیدہ توحید اور امام احمد رضا

آج کے مضمون کا عنوان ہے عقیدہ توحید اور امام احمد رضا جس کو حضرت مولانا محمد خیبر عالم نوری نے مرتب کیا ہے،رب العالمین حضرت کے علم و عمل میں برکتیں عطا فرمائے،،عقیدہ توحید پر سیدی سرکار اعلیٰ حضرت کے کارنامے کا مطالعہ فرمائیں،اور اپنے احباب تک ثواب کی نت سے ضرور شیئر کریں

عقیدہ توحید اور امام احمد رضا

عالم اسلام کی ہمہ گیر و ہمہ جہت شخصیت، دنیائے سنیت جسے اعلیحضرت عظیم البرکت إمام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان قادری برکاتی محدث بریلوی علیہ الرحمتہ و الرضوان کے نام و القابات سے جانتی اور یاد کرتی  ہے.آپ کی ولادت با سعادت تیرھویں صدی ھجری کی آٹھویں دہائی
میں 10/شوال المکرم
انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر 14جون
ہفتہ کے دن بوقت ظہر
ایک علمی،فقہی و نیک سیرت گھرانہ
محلہ سوداگراں بریلی شریف صوبہ اتر پریس میں ہوئی.
پیدائشی نام”محمد”
  آپ کے جد امجد زبدۃ المتكلمين حضرت علامہ رضا علی خان رحمۃ اللہ علیہ نے “احمدرضا”رکھا
اور تاریخی نام”المختار” ہے.

آپ دنیائے اسلام کےعظیم محدث و مفکر،محقق و مدبر،دین مصطفوی کے بےباک نقیب و ترجمان،سنت و شریعت کےمحافظ و پاسبان اور فرزندانِ توحید و رسالت کے حقیقی ہمدرد و نگہبان تھے.
آپ کی زندگی کے ہر ہر لمحات دینی،تبلیغی وعلمی خدمات و کارناموں سے معطر و لبریز ہیں.
،آپ نے اپنی پوری زندگی اسلام و سنیت کی تحفظ و بقاء،ترویج اشاعت،احیائےدین و سنت اوراصلاحِ امت میں گزاری ہے

آپ نہایت ہی موقع شناس مدبر و مفکر، شارح، مترجم و مصنف، صحابئہ کرام، سلف و صالحین کے عقائد و نظریات اوراکابرین اہلسنت کے علمی، روحانی کارناموں کے امین و پاسبان اور امت مسلمہ کے مخلص وبے لوث رہبر ورہنما تھے.
آپ کی ذات وشخصیت میدانِ تحقیق و تدقیق، علم و عرفاں کے بحر بےکنار، یکتائے زمانہ
،روحانیت وعرفانیت، تصوّف وطریقت،حقیقت و معرفت،بصیرت و بصارت، حلم وبردباری،راست گوئی وحق شعاری،صبر و تحمل اورتصلب و استقامت فی الدین کے کوہِ گراں تھی.

فضل وکمال، زہدوتقوی،عبادت و ریاضیت،حسن اخلاق و کردار،تواضع انکساری کے اعتبار سے اپنے آپ میں آپ بے نظیر اور بےمثل و بےمثال متقی و پرہیزگار تھے.
خشیت الہی و محبت رسول آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی.
،آپ کی علمی جلالت و فقہی بصارت و بصیرت کا شہرہ عرب و عجم میں یکساں  تھا.علوم عقلیہ و نقلیہ، ظاہر و باطن میں آپ کو حد درجہ کمال و عبور حاصل تھا

آپ کی علمی جلالت و فقہی بصارت اور اعلی فکر و ذہانت کو تسلیم کرتے ہوئے
عرب و عجم کے علماء و فضلاء نے اپنا امام و پیشوا تسلیم کیا ہے.
آپ “فاضل بریلوی گذشتہ مجددین حضرات کی طرح چودھویں صدی میں کشتئ ملت اسلامیہ کے ناخدا، عقیدہ توحید و رسالت کے محافظ، مرکز دائرہ تحقیق، مرجع علمائے عرب و عجم اور شمع رسالت کے پروانے ثابت ہوئے
برٹش گورمنٹ کی پُراسرار فتنہ انگیزی واسلام دشمن اور رنگ برنگے لصوص دین و گستاخان شان رسالت کے زمانے میں آپ کا وجود مسعود وقت کی سب سے بڑی ضرورت تھی کہ اس عدیم النظیر علمیت کو دنیائے اسلام کی مائہ ناز علمی ہستیوں نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آپ کے منصب امامت کا بڑے فخر کے ساتھ اظہار فرمایا ہے”
آپ کے علمی تبحر و ذکاوت ذہنی کا اعتراف نہ صرف اپنوں کو بلکہ غیروں کو بھی ہے.
“حقیقت یہ ہے کہ مولانا احمد رضا خان صاحب کے بارے میں  اب تک ہم سخت غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں ان کی بعض تصانیف اور فتاوے کے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جو علمی گہرائی میں نے ان کے یہاں پائی ہے وہ بہت کم علماء میں پائی جاتی ہے اور عشق خدا اور رسول تو ان کی سطر سطر سے پھوٹا پڑتا ہے”
(ابوالعلی مودودی)

اختیارات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ،مضمون کا مکمل مطالعہ کریں

وہ حضرات آپ کے وفور علم، فقہی متون ومسائل خلافیہ پر دقت نظر وسعت معلومات سرعت تحریر اور ذکاوت طبع دیکھ کر حیران رہ گئے”
(ابوالحسن علی ندوی).
آپکی دینی،تبلیغی وتحقیقی خدمات سے گم گشتہ راہوں  کو راہ راست و ہدایت، گمراہوں کو دین حق کی حقانیت و معرفت حاصل ہوئی ہے.
بے شمار بندگان خدا کو آپ کے میکدہ عشقِ نبوی سے معرفت الہی کی منزلیں حاصل ہوئیں ہیں.
آپکی تالیفات و تصنیفات، فتاوے و تحریرات، إرشادات و ہدایات میں نسلِ انسان کیلئے دارین کی کامیابی و کامرانی کی ضمانت ہے.

آپ کا عزم و مشن

ایمان و اسلام کا تحفظ، ناموس رسالت کی حفاظت، فرزندانِ توحید و رسالت کے دلوں میں حب خدا و محبت رسول کا جذبہ، سنت وشریعت مصطفوی کی بجا آوری،صوم و صلوۃکی پابندی، صحابہ و اسلاف کے تابندہ نقوش پر عمل پیروی، بدعات و خرافات، معاصیات و منہیات شرعیہ سے نفرت و بیزاری اوراجتناب و دوری کا ذوق پیداکرنا،امت مسلمہ کے سینے سے شمع عشق مصطفوی کو بجھنے سے بچانا،صحابہ، اہل بیت  و محبوبین بارگاہ الہی کی عظمت و محبت مسلمانوں کے دلوں سے مٹنے نہ دینا،
جہالت وگمراہیت،بدعات و منکرات اور بدعقیدگی و توہم پرستی سے سماج ومعاشرہ اور نسل انساں کو پاک و باز رکھنا،
مساجد و مدارس اور خانقاہوں کا تحفظ و استحکام،
مقامات مقدسہ و مزاراتِ اولیاء کا تقدس، ان کی عظمت و حرمت کی بقاء،
تصوّف و طریقت،سنیت ومعرفت کے نام پر خرافات و بدعات کو انجام دینےوالوں کو دعوت فکر و اصلاح،مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بازیابی اور انکی فلاح و بہبودی آپ کا عزم ومشن تھا.

 

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،مضمون کا مطالعہ کریں

یہی وجہ ہے کہ آپ نےبلا خوف و خطر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر
دین و سنیت اورناموس رسالت کے تحفظ کی خاطر اشداء علی الکفار کی تفسیر بن کر وقت کی باطل طاقتوں اور کفر و ارتداد کی تیز آندھیوں کا خوب ڈٹ کرمقابلہ کرتے ہوئےاپنے نوک قلم سے باطل کی ناپاک و ناکام سازشوں کا پردہ چاک کرکے دین اسلام کےخوبصورت چہرے کو مسخ و گرد آلود ہونے و امت مسلمہ کو کفر وارتداد کے دلدل سے بچایا ہے.
اعلیحضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمتہ و الرضوان نے قرآن و حدیث،صحابہ و تابعین کرام کے عقائد و نظریات،آئمہ و اولیاءِعظام کےاقوال و افعال کی صحیح تشریح و ترجمانی کر کے ملتِ اسلامیہ کو اسلام کا حقیقی تصور و نظریہ عطا فرمایاہے.
آپ کے بے لوث دینی،تبلیغی، تجدیدی وتحقیقی، تدقیقی وتحریری خدمات وکارناموں کو احاطئہ تحریرمیں لانا ایک مشکل امرہے.
،مختصر یہ کہ آپ کی تعلیمات و فرمودات اور ارشادات و تحقیقات میں امت مسلمہ کے ہر پیچیدہ و مشکل مسائل کا حل موجود ہے

دینیات ہوں یا معاملات،
معاشرات ہوں یا پھر معاشیات آپ نے بروقت اپنے منصب اعلی و جلیلہ کے فرائض و لوازمات کو بخوبی انجام دیتے ہوئے خداد صلاحیتوں کے ذریعے ہر موڑ پر قوم و ملت کی رہبری و رہنمائی کی ہے.
مگر افسوس کہ مخالفین و محاسدین نے اپنی کمی کو  چھپانےاور اپنی سیاہ پیشانی پر لگے کفر و ارتداد کے بدنما داغ کو مٹانے کیلئےاسلام کے اس عظیم الشان مفکرومحقق، محافظ عقیدہ توحید و رسالت، مجسمئہ عشق و محبت رسول فاضل بریلوی کی تعلیمات کو دنیا کے سامنےغلط طریقے سے پیش کیاہے
اور شرک و بدعات کا موجد و مورد الزام ٹھہرایاہے….
لیکن ارباب علم و دانش،فکر ونظر اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ اعلیحضرت محدث بریلوی نے شریعت اسلامیہ  سے ہٹ کر کچھ نہیں کہا ہےآپ کی تحریرات و تحقیقات میں وہی سب موجود ہیں جو قرآن وحدیث کا موقف و منشاء اور صحابہ و اسلاف و صالحین کے عقائد ونظریات ہیں
،اور نہ ہی آپ کا مسلک کوئی نیا مسلک ہے

اعلیٰ حضرت اور خدمت خلق ،مضمون کا مطالعہ کریں

بلکہ جمیع صحابہ و تابعین کرام، آئمئہ اربعہ و تمام اغواث و اوتاد، اولیاء و صالحین، سواد اعظم و اہل سنت و جماعت کے جملہ افکار و تشریحات اور عقائد و نظریات کے مجموعہ کا نام  مسلک اعلیحضرت ہے..
آئیے اس مختصر مضمون میں اسلام کا اساسی و بنیادی عقیدہ

عقیدہ توحید”کےمتعلق  امام اہل سنت فاضل بریلوی علیہ الرحمتہ کا عقیدہ و نظریہ کیا ہے اسے انہی کی زبانی معلوم کرتے ہیں

ویسے تو آپ کی ذات و زندگی کا ہر گوشہ ہیرے کی مثل ہے کہ جدھر سے پلٹ کر دیکھیں ایک الگ الگ رنگ و نقشہ نظر آئے گا
مگر یہاں صرف عقیدہ توحید کے تعلق سے  آپکا عقیدہ ونظریہ اور اس پر آپ کے  خدمات و کارنامے إجمالا بطور نمونہ پیش خدمت ہیں.
مذہب اسلام کے  اس اساسی و بنیادی عقیدے  پر ممدوح فاضل بریلوی نے ایک جامع رسالہ تحریر فرمایا ہےجو “الاعتقاد الأحباب فی الجمیل و المصطفی والال والأصحاب” کے نام سے مشہور ومعروف ہے..
مجدد مائۃ ماضیہ، مؤیدملت طاہرہ کا مجددانہ، منصفانہ عقیدہ توحید کو بغیر کچھ تشریح و توضیح کے پڑھتے چلیں اور اپنے ایمان و عقیدے کو جِلا بخشیں….

” آپ کا عقیدہ توحید “
آپ  تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت حق سبحانہ وتعالی شانہ واحد ہے نہ عددسے، خالق ہے نہ علت سے، فعال ہے نہ جوارح سے.
قریب نہ مسافت سے،ملک ہے مگر بے وزیر، والی ہے بے مشیر، حیات وکلام وسمع وبصر و ارادہ و قدرت و علم وغیرہا تمام صفات کمال سے ازلاً أبداً موصوف ہے.
شیون و شین عیب سے اولاً و اخراً بری. ذات پاک اس کی ندوضد، شبیہ و مثل، کیف و کم، شکل و جسم و جہت و مکان آمد و زمان سے منزہ.
نہ والد ہے مولد، نہ کوئی شئ اس کے جوڑ کی. اور جس طرح ذات کریم اس کی مناسب ذوات سے مبرّا اسی طرح صفات کمالیہ اس کی مشابہت صفات سے معرا
مسلمان پر لاالہ الا اللہ ماننا، اللہ سبحانہ و تعالی کو واحد، صمد لاشریک لہ جاننا فرض اول ومدار ایمان ہے کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہ ذات میں کہ لاالہ الا اللہ، نہ صفات میں کہ لیس کمثلہ شئ، نہ اسماء میں کہ کل اسم لہ سمیا، نہ احکام میں کہ ولاشریک فی حکمہ احد، نہ افعال میں کہ ھل من خالق غیر اللہ.نہ سلطنت میں کہ ولم یکن لہ شریک فی الملک، اوروں کے علم و قدرت کو اس کے علم و قدرت سے فقط ع ل م ق درت میں مشابہت ہے. اس سے آگے اس کی تعالٰی و تکبر کا سراپردہ

کسی کو بار نہیں دیتا.تمام عزتیں اسی کے حضور پست اور سب ہستیاں اسی کے آگے نیست. کل شئ ھالک الا وجہہ. وجود واحد موجد واحد باقی سب اعتبارات.
ذرات اکوان کو اس کی ذات سے ایک نسبت مجہولۃ الکیف ہے جس کے لحاظ سے من و تو کو موجود و کائن کہا جاتا ہےاور اس کے آفتاب کا وجود پرتو ہے کہ کائنات کا ذرہ نگاہ ظاہر میں جلوہ آرائیاں کر رہا ہے اگر اس نسبت و پرتو سے قطع نظر کی جائے تو عالم ایک خواب پریشان کا نام رہ جائے.
ھُو کا میدان بجہت کی طرح سنسان. موجود واحد ہے
نہ وہ واحد جو چند سے مل کر مرکب ہوا. نہ وہ واحد جو چند کی طرف تحلیل پائے. نہ وہ واحد جو بہ تہمت حلول عینیت اوج وحدت سے حضیض اثنینیت میں اترے. وھولاموجودالاھو. آیۃ کریمہ سبحانہ وتعالی عمایشرکون جس طرح شرکت فی الالوہیت کو رد کرتی ہےیونہی اشتراک فی الوجود کی نفی کرتی ہے.(الاعتقاد الاحباب فی الجمیل و المصطفی والآل والأصحاب).

عقیدہ توحید کا تحفظ اور فلاسفہ کا رد

 

اللہ تعالٰی کی خالقیت وفاعلیت کے بارے فلاسفہ کا یہ عقیدہ و نظریہ کہ
“اللہ تعالٰی فاعل کی نسبت سب چیزوں کی طرف برابرہے. لہذا دوبرابر چیزوں میں سے کسی ایک کو اپنی طرف سے ترجیح نہیں دے سکتا ورنہ ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی جو محال ہے”
نیز فلاسفہ کا یہ بھی ماننا ہے کہ “اللہ تعالی نے صرف عقل اول کو پیدا کیا باقی تمام جہان عقول کا پیدا کردہ ہے”
تو فاضل بریلوی علیہ الرحمتہ نے عقیدہ توحید کے سلسلے میں فلاسفہ کے باطل عقائد و نظریات و مغالطہ دہیوں کے رد میں
الکلمتہ الملہمۃ” نامی ایک رسالہ تحریر فرماکر عقیدہء توحید کے سلسلے میں انکے باطل نظریے کا

اے غافل انسان ہوش میں آ،مضمون کا مطالعہ کریں

جواب انہی کے” مسلمہ دلائل” سے  اسلامی عقیدہ و نظریہ پیش کیا….
آپ فرماتے ہیں کہ
اللہ عزوجل فاعل مختار ہے اس کا فعل نہ کسی مرجح کا دست نگر نہ کسی استعداد کا پابند، یہ مقدمہ نظرایمانی میں تو آپ ہی ضروری بدیہی یَفعل اللهُ مایَشاء ہ……… فعّال لِمایرید. ہ…… له الخیرۃ  ہ…. یونہی عقل انسانی میں بھی اپنے ارادےکودیکھ رہاہے
کہ دومتساویوں میں بے کسی مرجح کے آپ ہی تخصیص کرلیتاہے، دوجام  یکساں ایک صورت، ایک نظافت کے، دونوں میں ایک سا پانی بھرا ہو اس سے ایک قرب پر رکھے ہوں یہ پینا چاہے
ان میں سے جسے چاہے اٹھا لےگا. پھر اس فعّال لمایرید کا کیا کہنا؟.
نیز امام اہل سنت نے مظہر بوحنیفہ بن کر ان کے باطل نظریے کا منھ توڑ جواب دیتے ہوئے یو ں ارشاد فرمایا کہ عالَم میں نہ کوئی فاعل موجب نہ فاعل مختار….. فاعل مطلق و فاعل مختار ایک اللہ واحد قہّار ہے. یہ مسئلہ بھی نگاہ ایمانی میں بدیہیات سے ہےاور عقل سلیم خود حاکم کہ ممکن، آپ اپنے وجود میں محتاج ہے دوسرے پر کیا افاضئہ وجود کرے دو حرف اس پر بھی لکھ دیں کہ راہ ایمانی سے یہ کانٹا بھی بإذنه عزوجل صاف ہوجائے
(الکلمۃ الملہمہ فی الحکمتہ لوھاء فلسفتہ المشئمہ).

“سجدہ تعظیمی کی حرمت”

اس تعلق سے بھی الزبدۃ الزکیہ فی تحریم سجود التحیہ نامی ایک مکمل رسالہ ہے
جس آپ فرماتے ہیں کہ سجدہ حضرت عزت جلالہ کے سوا کسی کیلئے نہیں. اس کے غیر کو سجدہ عبادت تو یقیناً إجماعا شرک مہین و کفر مبین اور سجدہء تحیت حرام و گناہ کبیرہ بالیقین اور اس کے کفر ہونے میں اختلاف علماء دین ایک فقہاء سے تکفیر منقول اور عند التحقيق وہ کفر صوری پر محمول…. ہاں مثل صنم وصلیب وشمس و قمر کیلئے سجدے پر مطلقاً اکفار……ان کے سوا مثل پیر ومرشد کیلئے ہرگز ہرگز نہ جائز نہ مباح.
نیز آپ پر یہ بھی جھوٹا و بے بنیاد الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ نے “قبر پرستی”
جیسے غیراسلامی رسم و تصور کو رواج دیا ہے جبکہ حقیقت و سچائی یہ ہےقبیح فعل  کے عدم جواز پر بھی ایک مستقل رسالہ “مفاد الحبر فی الصلٰوۃ بمقبرۃ او جنب قبر” لکھا ہے.
اس غیر شرعی امر کے رد میں آپ فرماتے ہیں کہ

مزارات کو سجدہ تو درکنار، کسی قبر کے سامنے اللہ عز وجل کو سجدہ جائز نہیں، اگر چہ قبلہ کی طرف ہو“(امام احمد رضا ایک مظلوم مفکر)
جملہ متذکرہ بالا سطور کے علاوہ آپ کی تصنیفات و تحریرات، ملفوظات و تحقیقات کو پڑھنے  سے یہ بات اچھی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ ہر ایک بات میں توحید و تقدیس الہی کو ملحوظ رکھا ہے.
اس کے باوجود بھی کوئی اگر آپ پر شرک و بدعات کا گٹھیاوگھناؤنہ،بے بنیاد اور جھوٹا الزام عائد کرے  تو یہ عدل و انصاف حق و صداقت کو زندہ ذبح کرنے کا مترادف ہے اور ہوگا.

حق تعالٰی حق قبول کرنے کی توفیق عطا کرے…..

محمد خیبر عالم نوری

استاد دارالعلوم ضیائے مصطفی فہیم آبادکالونی کانپور یوپی..