Categories: اردو مضامین

علم فلکیات کا ارتقاء باب احمد رضا تک

الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ ،صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

آج کا مضمون بہت ہی اہم جس کو فقیہ العصر استاذ الاساتذہ حضرت علامہ مفتی رفیق الاسلام نوری منظری نے مرتب کیا ہے ،علم فلکیات کا ارتقاء باب احمد رضا تک ۔اللہ تعالیٰ مفتی موصوف کے علم وعمل میں برکتیں عطا فرمائے اور ہم لوگوں تک فکر رضا پہچانے کے لئے رب العالمین ان کو دارین کی سعادتوں سے مالا مال فرمائے۔آمین۔

علم فلکیات کا ارتقاء باب احمد رضا تک

اللہ تعالی نے اس حسین و خوبصورت دنیا کو انسان کے لئے کس قدر بارونق اور دلکش بنایا ہے کہ اس کے حسن میں ایک دانا و بینا انسا ن کو ایسی قدرتِ کاملہ کا بھی مشاہدہ ہو جاتا ہے جو ابدی، ازلی، یکتا اور بے مثال ہے ، اس الم میں یوں تو بے شمار موجودات ہیں، لیکن ان میں تجددِ حالات، تأثر بالزمان، احتیاجِ مکان، قبولِ کون و فساد، حرکت و سکون، ترکیب و تحلیل، من و الی، کیف و کم، این و متی اور تغیر و تبدل کے مطالعہ سے قلب سلیم ذہن صائب کا یہی فیصلہ ہوتا ہے کہ یہ کسی اور ذات کی مخلوق ہیں کیونکہ ان ساری وجوہات کی وجہ سے یہ سب موجودات تو اپنے کو ممکن اور محتاج بتارہے ہیں ۔

لہذا کوئی ایسا محتاج الیہ ضرور موجود ہوگا جس نے انھیں وجود و تخصص کی نعمت عطا فرمائی ہے ، جو نہ کسی مکان کا مکین ہوگا اور نہ ہی کسی زمان سے متأثر ،
آخر ایسی ذات کونسی ہے جو یقینا لائق پرستش ہے، اسی کی جستجو سے دنیا کا تفکر و تدبر پہلے دو نظرئے پر منقسم ہوا کچھ اذہان نے اس محتاج الیہ کی معرفت کے راستے میں اپنی جد و جہد جاری رکھی اور کچھ نے اپنی پروازِ تصور کو یہیں پر منجمد کرلیا اور اس حسین گلستاں کو خودرو قرار دیتے ہوئے اس میں کسی علتِ مؤثرہ کی تاثیر سے صاف انکار کردیا،
اسی سے دہریت کا نظریہ وجود میں آیا، ۔

اور پہلی قسم کے لوگوں میں بعض نے اپنے سے بڑھکر طاقتور کو دیکھا تو اسی میں محتاج الیہ کی تلاش شروع کردی بلکہ اسی کو محتاج الیہ مان لیا ، آفتاب کی کرنوں کو انسانی طاقت سے بے نیاز دیکھا تو اسی کو محتاج الیہ مان لیا، کسی نے سرشبز و شاداب نباتیات میں اور نفوس حیوانیہ میں پانی کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے سمندر کو ہی قابل پرستش سمجھ لیا، اسی طرح مشرکین کے نظریات کی نحوست سامنے آئی، اس گلستانِ ہستی میں کچھ نفوس قدسیہ ایسے بھی تھے جنھوں نے ہمیشہ پرزور ان باطل نظریات کی تردید کی اور کرتے رہینگے کہ جنھیں تم قابل عبادت جانتے اور مانتےہو وہ خود محتاج ہیں تمھاری نادانی نے تمھیں اس قدر ذلیل و خوار کردیاہے کہ تم واجب الوجود سے بے خبر ان مخلوقات کی عبادت کرنے لگے، افسوس تمھاری اس فکری یتیمی پر، ایک معتدل ذہن و فکر کی رہنمائی کے لئے یہ سارے دلائل و قرائن کافی تھے، اس کے باوجود اللہ تعالی کا کتنا عظیم احسان ہے کہ اس نے نوع انسانی کی ھدایت کے لئے یہاں انبیاں و مرسلین کو مبعوث فرمایا، ساتھ ہی صحیفے و کتب بھی نازل فرمائے، پھر بھی راہِ ھدایت سے اگر کوئی ناواقف ہو تو اس منحوس ذہن اور بیمار قلب کے لئے ہلاکت ہی ہلاکت ہے

(والعیاذ باللہ تعالی)۔

اس محتاج الیہ کی جستجو میں جو شب و روز مصروف و سرگرداں تھے انھیں انبیائے کرام کے ہر ایک پیغام میں حقیقت کا جلوہ نظر آیا، اور ان لوگوں کو صحبتِ نبی کی عظیم دولت بھی میسر ہوئی، حقائق شناسی کی طرف خود رفتگان میں بہت سارے فلسفی، ریاضی داں، ماہرِینِ ہیئت، منجمین اور محققین پیدا ہوئے،  اگرچہ ان میں زیادہ تر تحصیلِ مطالب اور صانعِ عالم کے تعین کی معرفت میں ناکام بھی رہے، کتنوں کو تو اپنی حق گوئی کی قیمت جان دیکر بھی چکانی پڑی جیسا کہ اس دھرتی میں انسانی تفکر و تدبر کو نئی سمت دینے والے معلم اول ،سقراط، کی تاریخ ہمارے سامنے ہے، جو 470 ق م  قدیم یونانی شہر ،ایتھنز، میں پیدا ہوا اور اسی شہر میں 399 ق م اسے موت کی سزاہوئی اس لئے کہ اس فلسفی نے دیوتاؤں کے لئے حقیقی وجود کا انکار کیا تھا، جو وہاں کے حکمراں اور باشندوں کی نگاہوں میں ناقابلِ معافی جرم تھا، اس کے شاگردوں کی صفِ اول میں ،ارسطو، کا نام آتاہے،۔


یہی وہ زمانہ تھا جب ہر طرف ،سقراط، کے علم و حکمت کا خوب چرچا تھا افلاک کی بلندی پر اس نے فکر کی کمانیں ڈالدی تھیں، طبعیات نے بھی اس کے سامنے اپنے بہت سارے راز  کھولدیئے تھے، اسی کے شہر میں 427 ق م ایک اور  بچہ نے جنم لیا جس نے ،سقراط، کے اس علمی کارواں کی قیادت بڑی شان و شوکت اور خوش اسلوبی سے کی، بلکہ اسے اور کافی آگے تک لے گیا،  قدیم یونانی زبان میں ان کی بھی متعدد کتابیں موجود ہیں، جن میں فلسفہ کے اولین قاعدے پائے جاتے ہیں ،ارسطو، کو اس سے بھی علم و حکمت حاصل کرنے کا موقع ملاہے، اس فلسفی کا نام ،افلاطون، تھا اسّی سال کی عمر میں 347 ق م اس کی موت ہوئی یہ مردم خیز زمین کے دونوں نامور دانشوروں کا انتقال ہو چکا تھا

دونوں سپرد خاک ہو چکے تھے اب ان دونوں کے پروردہ ،ارسطو، ان کی علمی و فکری مسندِ حشمت و سطوت کا جانشین تھا، یہ 384 ق م میں پیدا ہوا اور 322 ق م 62 سال کی عمر میں وفات پائی اسی نے فلسفہ کو وہ ترقی دی جو ایک مستقل موضوع بن گیا آج علم نجوم (اسٹرانومی) علم ہیئت (اسٹرالوجی) علم مثلث (ٹریگونومیٹری) علم ہیئت (جغرافیا) وغیرھا اسی کے درجنوں موضوعات پیشِ نظر ہیں مشہور فلسفی ،اسکندر رومی، اسی ،ارسطو، کا شاگرد تھا، اس کے بعد اِن ہی فلسفیوں سے ملے اصول و ضوابط کے مطابق تحقیقات کا کام جاری رہا،  نئے نئے قوانین اور بھی عالمِ وجود میں آئے، چار صدیوں سے بھی زائد عرصہ تک آنے والے فلسفی محققین فلکیات و طبعیات میں انھیں کے مقلد رہے اور ان ہی کی کتابوں سے استفادہ کرتے ہوئے اس علم کو کافی بلندی تک لے گئے،۔

اعلیٰ حضرت بحیثیت سائانسداں کا مطالعہ کریں

پھر سن عیسوی کی پہلی صدی کے اختتام پر ،اسکندریا، میں ،بطلیموس، پیداہوا جس نے متقدمیں کی کتابوں سے بہت کچھ حاصل کیا،خزانے کے خزانے لوٹ لئے اس نے ،سبعہ سیارہ، ہی نہیں بلکہ ثوابت تک کے محل وقوع کے ساتھ اس کی چال سے بھی پردہ اٹھایا، علمی دنیا میں ایک ماہر منجم اور ماہر فلسفی کے لقب سے بھی اسے خوب شہرت ملی، خاصکر فلکیاتِ نجوم، ریاضی، اور جغرافیا، میں اسے بہت مہارت تھی، متقدمین فلسفیوں میں سے ،ارسطو، سے یہ زیادہ متأثر تھا، فلسفہ میں اس کی پچاسوں کتابیں موجود تھیں جن میں سے بعض اب بھی موجود ہیں فلسفہ کے شعبئہ فلکیات اور جغرافیہ میں سب سے ضخیم کتابیں اسی کی ہیں، ۔

سیدنا سرکار اعلی حضرت نے بھی ،فتاوٰی رضویہ میں متعدد بار اس کی ایک کتاب
،کتاب المجسطی، کا نام لیاہے کہیں اس کا حوالہ ہے تو کہیں اس کے دعوی کا رد ہے، یہ کتاب تیرہ جلدوں پر مشتمل ہے، اور پوری کتاب فلکیات میں ہے، اسی میں اس نے کواکب کو متحرک مانتے ہوئے سکونِ زمین کا قول کیا ہے،
دوسری ضخیم کتاب اس کی ،جغرافیائے بطلیموس، ہے جو آٹھ جلدوں میں ہے، اس فلسفی نے فلسفہ کے متعدد شعبوں کو مستقلا فن کا درجہ دے کر کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں ان ہی حکماء کی وجہ سے صرف یونان ہی نہیں بلکہ روم کے قدم بھی زمیں پر نہیں پڑ رہے تھے، انھیں اپنی حکمت و فلسفہ پر اس قدر ناز تھا کہ صرف اپنے کو ہی انسان اور باقی کو دیگر حیوانات کی طرح درجہ دیتے تھے، ہر ایک بات کو اپنی اندھی عقل کے ترازو میں تولنے کی انھیں عادت بن چکی تھی، ایسے وقتوں میں کچھ عربی خبروں نے انھیں حیران و پریشان کردیا تھا، اور وہ خبریں  تھیں افق حجاز پر طلوعِ اسلام کی،۔

اب تک کی یہ تاریخ طلوع اسلام سے پہلے کی تھی، عرب کے نخلستان میں آباد مکہ مکرمہ وہ خوش نصیب شہر ہے جسے اس قدم مقدس کو بوسہ دینے کا شرف مل رہا تھا جس کی رفعتِ شأن کو دیکھکر عرش کی عقل بھی دنگ رہ جاتی ہے ان خاک نشین فلسفیوں کی اوقات ہی کیاہے کہ اپنی مفلوج عقل سے خاکِ پا کی ہی پیمائش کرلے ، جبکہ روزِ ولادت سے ہی متعدد محیرالعقول واقعات کی مسلسل خبروں سے ان کے خون منجمد ہوتے جا رہے تھے ،ان کی عقل خون کی پلٹیاں کرنے پر مجبور تھیں ، فلکیات میں کواکب اور ان کی حرکتوں پر قبضہ کے دعوی کرنے والے فلسفیوں پر اس ذرہ کے طول و عرض سے ہی سکتہ طاری ہو جاتا تھا جسے قدم نبوی کو بوسہ دینے کاموقع ملا ہو جن خبروں نے ان کی حکمت و فلسفہ کو واہیات کے دھاگوں میں لپیٹ دیا تھا ان میں بعض یہ ہیں۔

وقت ولادت کسری اور مکہ میں تین روز تک زلزلے آتے رہے
دنیا کا مضبوط ترین گھر ایوانِ کسری منہدم و زمیں بوس ہو چکا تھا۔۔۔۔۔ لیکن مکہ میں ایک گھر کعبہ کا ایک پتھر بھی نہ گرا،
جبکہ اس میں رکھے سارے بت منہ کے بل پڑے ہوئے تھے،
ایک بچہ ایک ناتواں وہ نحیف اونٹنی پر بیٹھا تو وہ فربہ اور تواناں بن چکی تھی، جھولے سے انگشت کے اشارے پر فلک کا چاند رقص کر رہاتھا، یکبار اسی اشارہ سے چاند دو ٹکڑوں میں بٹ گیاتھا۔


اسی طرح مسلسل خبروں سے یہ فلسفی مبہوت تھے کہ ان کا فلسفی میزان اس قدر وسیع نہیں تھا جس میں یہ خبریں سما سکے ساتھ ہی ان خبروں کا ایسا تسلسل تھا جس سے انکار کی بھی جرأت نہیں تھی، نزولِ قراٰن کی بات زیادہ تر کی عقلوں سے باہر تھی، اسلام اور فلسفہ میں اختلافات شروع ہو چکے تھے،۔

فلسفیوں کے کتنے مقررات احکاماتِ قراٰن سے متصادم تھے ان میں بھی کچھ تو فی نفسہ متصادم تھے اور کچھ معنی تصادم کو مستلزم تھے عالم کے مؤثر حقیقی اور اس کی صفات کے بارے میں بھی اختلاف ظاہر تھا مسلم علماء ان کے فرسودہ نظریات کی بیخ کنی میں مصروف ہوگئے تھے، وہ لوگ اسلامی نظریات کو یونانی زبان میں اور یہ حضرات فلسفی قوانین کو عربی میں منتقل کرنے لگے ہوئے تھے، ان نظریات کی نقل پھر مخالف زاویہ کی تردید نے ایک مستقل فن کی شکل اختیار کرلی تھی، رفتہ رفتہ اسی طریقئہ کار سے علم کلام کا بھی وجود ہوگیا، فلسفہ کو یونانی سے عربی میں منتقل کرنے کا کام ،مامون رشید،کے زمانہ میں سب سے زیادہ ہوا۔

مسلم دانشوروں نے بھی موجودات کو طاقت بشری سے سمجھنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں کہ قراٰن کریم میں بار بار اس میں غور و فکر کی ترغیب دی گئی ہے، خاصکر ،علم فلکیات، کو تو مسلمانوں نے کافی اہمیت دی ہے، کہ چاروں بنیادی اسلامی احکام اسی سے متعلق ہیں، نماز کے اوقات، اور ایک روزہ کی ابتداء و انتھاء بتانے کی خدمت سورج  کے ذمہ ہے، جبکہ رمضان، حج اور وجوبِ زکٰوۃ کی نشاندہی پر اللہ تعالی نے چاند کو مامور فرمایاہے، یعنی روز و شب، ماہ و سال میں خدمت کے لئے ہی نیرین کو وجود کی سعادت ملی ہے،۔

لہذا فلکیات کے راز سربستہ سے آشنائی یونانیوں کے بالمقابل ایک مسلمان کے لئے زیادہ مفید ثابت ہوگی، اسی طرح ہیئت کا وہ شعبہ جو روئے زمیں پر منطبق ہے یعنی جسے جغرافیا کہا جاتاہے یہ بھی مسلمانوں کا محبوب موضوع بن گیا کہ کرئہ زمین کا تاجِ شاہی کعبہ بیت اللہ یہیں سے مطلعِ انوار و تجلیات بناہوا ہے جہاں ایک طرف حج و عمرہ کے لئے مسلمان وہاں تک پہنچنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں وہیں دوسری طرف روزانہ کم از کم پانچ بار نماز میں اس کی طرف متوجہ بھی ہو رہے ہیں، آفاقی نمازی کے لئے استقبالِ قبلہ کا تعین علم جغرافیا ہی بہتر کر سکتاہے ، بلکہ فلک کے مفروضہ دوائر عشرہ کا اس میں کلیدی کردار موجود ہے،۔

ہاں تک اس موضوع پر اسلامی مفکرین کا سوال ہے تو اس میں بھی ہیئت دانوں کی ایک طویل فہرست پیش نظر ہے
جن میں خصوصیت کے ساتھ ابونصر فارابی کا نام لیا جاسکتاہے 258ھ میں جس کی ولادت ہوئی مولد ،فاراب، کی طرف منسوب کرتے ہوئے اسے فارابی کہاگیا جو خراسان کا ایک قریہ ہے آج یہ علاقہ قزاقستان کے حدود میں داخل ہے اس کی زندگی کا زیادہ تر حصہ بغداد میں گزرا علم و حکمت میں اسے کافی شہرت ملی اور ،معلمِ ثانی، کے لقب سے آفاق میں شہرت پائی بالآخر دمشق میں 339 ھ کے درمیان وفات ہوئی منطق و فلسفہ میں اس کی متعدد کتابیں موجود ہیں ان میں
،اغراض مابعد الطبعیۃ ارسطو،
فصول الحکم، اور احصاء العلوم کافی مشہور ہیں۔


دوسرا نام حسن ابن عبد اللہ ابن سینا جو ،ابوعلی، کی کنیت سے مشہور تھا، 980ء میں ولادت ہوئی علم و حکمت میں کافی مشہور ہوا ،  معقولات میں ممتازالمعاصرین مانا گیا، الٰہیات، ریاضیات اور طبعیات میں اچھی مہارت تھی 1037ء میں وفات پائی اور ہمدان میں مدفون ہوا ، اس کی کتابوں میں، شفا، اور قانون دانشوروں میں بہت مقبول ہوئیں۔


اسی طرح نصیرالدین طوسی
(1201-1284)ء کا نام بھی حکمت میں کافی بڑی اہمیت کا حامل ہے
علامہ نظام الدین عبدالعلی برجندی (دسویں صدی ھجری) مھندس و منجم کا نام بھی اعلی درجہ پر نظر آ رہاہے
بعدِ طلوعِ اسلام پچاسوں ایسے ہیئت داں ہیں جنھوں نے فلکیات،  طبعیات، اور ریاضیات میں داد و تحسین حاصل کی اور روپوش ہوگئے، معقولات میں ان کی خدمات یقینا لائقِ ستائش ہیں، ان حضرات نے علم کی حیثیت سے طبعیات ،الٰہیات اور ریاضیات میں وہ کارہائے نمایاں انجام دئے جو خود معقولات کا ایک سنہرہ باب ہیں ،۔

اعلیٰ حضرت کی شاعری میں میلاد مصطفیٰ کا مطالعہ کا کریں

لیکن اصل میں جن مقدس ہستیوں نے عہد زرین میں اس فن کو بامِ عروج تک پہنچایا وہ فقھائے کرام کی پاکیزہ جماعت تھی ، حالانکہ فلسفیوں کی نااہلی اور نادانی سے اس میں بھی کچھ ایسے خرافات شامل ہوچکے تھے جن کی وجہ سے پاک طینت عام مسلمان اس قابلِ قدر علم کو یونانی بادِ سموم قرار دے رہے تھے،  ایسے حالات میں فقھائے کرام نے اسی علم کے ذریعے اوقاتِ نماز کا پیشگی تعین کرکے اور آفاقی نمازیوں کو جہت قبلہ بتاکر یہ ظاہر کر دیا کہ علم کسی بھی فن کا ہو اگر اصول و ضوابط صحیح ہوں اور حقائقِ نفس الامریہ کے مطابق اس کی رعایت ہو تو وہ دین و شریعت کا خادم ہے نہ کہ اسلام کا مخالف، فی نفسہ علم میں حسن ہے نہ کہ قباحت، اگر کسی علم میں حقیقتِ نفس الامر کے خلاف کچھ مواد داخل ہو چکے ہوں تو اس خاص مسئلہ میں وہ علم نہیں بلکہ جہلِ محض ہے، ان ہذیانات کے سبب اس پورے فن کو جہالت کا پلندہ نہیں کہا جائیگا ، یہی وجہ ہے کہ ہمارے فقھائے کرام نے وقت ضرورت کسی بھی علم سے افادہ و استفادہ سے گریز نہیں کیا ،۔

لکین اس سے دین و ملت کی عظیم خدمات حاصل کیں، عموما بر اعظم ایشیا سے یوروپی اندولس تک اس میں قابل فخر محققین کی ایک طویل نورانی قطار پر منورکہکشاں کو بھی رشک ہو رہا ہوگا، فقھائے کرام کے ان محققین نے فلکیات و دیگر علوم معقولات سے بہت سے کام لئے لیکن توقیت کے شعبہ میں ان کا کوئی ایسا نمایاں کارنامہ نظروں میں نہیں جو مستقلا ایک موضوع یا فن کی حیثیت سے اپنے کو منوانے پر کسی کو مجبور کردے، کسی نے نصف النہار پر کچھ تحریر کیا تو کسی نے طالع و غارب کی نشاندہی پر ہی اکتفاء کرلیا ، کسی نے شفقِ احمر و ابیض کو قلمبند کیا تو کسی نے صبح کاذب اور صادق میں رہنمائی کی، اسی طرح فلکیات کے اور شعبہ جات کا حال بھی توقیت سے مختلف نہیں تھا، جہت قبلہ پر کتب فقہ میں اس علم کے ذریعہ جو رہبری پائی جارہی ہے زیادہ تر اس کا انحصار
،دائرہ ہندیہ، پر ہے پوری ہیئت اسی کا طواف کرتی نظر آرہی ہے۔


یہ در اصل ہندی منجمین کا ایجاد کردہ ایک ایسا دائرہ ہے جسے انھوں نے نصف النہار اور سمت بلاد کی دریافت کے لئے آلئہ کار کے طور پر ایجاد کیا تھا، ایک ہموار مسطح زمین پر وہ دائرہ بنایا جاتاہے، یہ جس قدر وسیع ہو گا استخراجِ مطالب میں اسانیاں بڑھتی جائینگی، بالفرض دس فٹ قطر کا اگر یہ دائرہ بنایا جائے، اور سات فٹ طویل ایک سیدھی لکڑی مرکزِ دائرہ میں منصوب ہو تو طلوعِ آفتاب کے ساتھ اس کا ایک طویل سایہ مرکزِ دائرہ سے مغرب کو بیرونِ دائرہ کافی دور تک نظر آئیگا، جو ارتفاعِ شمس کے ساتھ تناقص پذیر رہے گا رفتہ رفتہ بالتدرج اس کی تنقیص ہوتی جائیگی ایک وقت ایسا بھی آئیگا جب اس سائے کا آخری مغربی کنارہ بھی اس دائرہ کو مس کرتاہوا اس کے احاطہ میں داخل ہونے کی کوشش کریگا ،۔

یہیں پر اس میں ایک نشان لگایا جاتا ہے، فقھائے کرام نے اس نشان کا نام
،مدخلِ ظل، رکھاہے، نصف النہار تک اس کے قد میں تنقیص کا تسلسل رہے گا،  پھر اس میں آفزودگی شروع ہوگی اور ایکبار مشرق کی طرف دائرہ سے باہر نکلنے کے لئے اسی جد و جہد میں پھر مصروف ہوگا یہاں بھی نشان لگایا جاتا ہے، اصطلاحِ فقہ میں اس نشان کو
،مخرجِ ظل، کہا جاتا ہے، مرکز سے ،مدخل ظل، ایک خط رکھا جاتا ہے، اور دوسرا خط مرکز سے ،مخرج ظل، تک پھر تیسرا خط ،مدخل ظل، سے مخرجِ ظل، ایک مثلث کے یہ تینوں ضلعے بن گئے،۔


اس کے مرکزی زاویہ کو دو حصوں پر تنصیف میں شمال و جنوب ایک چوتھا خط بن جائےگا، اب وہاں کے لئے جہت کا ادراک تو سہل ہو ہی گیا، ساتھ ہی لکڑی کا سایہ جب خط شمال و جنوب پر منطبق ہو تو وہی وہاں کا وقتِ نصف النہار بھی سامنے آ گیا،
فقہ کی کتابوں میں ہمارے علمائے کرام اس دائرہ ہندیہ کو پڑھاتے رہتے ہیں، مدرسینِ مدرسہ طلبہ کی ذہن نشیں بھی اس طرح کرا دیتے ہیں کہ یہ دائرہ کتاب میں ہی نہیں بلکہ طلبہ کے ذہن میں بھی منقش ہو جاتاہے، فقھائے کرام نے اس سے بھی ہیئت کا کام لیا ہے. ۔

اس کا طریقہ کچھ اس طرح ہے، کہ دائرہ ہندیہ کو اس آبادی کا افق بلد تصور کیا جائے جسے استقبالِ قبلہ مطلوب ہو پھر کعبہ معظمہ کے محل وقوع کا طول و عرض میں تعین کیا جائے، اور اس دائرہ میں اس کی بھی نشاندہی کریں مثلا آبادی کا عرض 16 درجہ 25 دقیقہ ہے تو کعبہ معظمہ سے عرض میں تفاوت پانچ درجے کا آیا کہ شہر مقدس کا عرض 21درجہ 25 دقیقہ ہے، اسی طرح ان دونوں مقام کے طول میں تفاوت حاصل کریں مثلا آبادی کا طول مشرقی 79 درجہ 45 دقیقہ ہے تو فصل طول چالیس درجہ آیا کہ طول مکہ مکرمہ …39۔درجہ 45 دقیقہ ہے

 

یتیموں کی  کی کفالت کرنی کی فضیلت  کا مطالعہ کریں ،انگلش میں
لہذا عرض کا تفاوت پانچ درجہ
طول کا تفاوت چالیس درجہ دونوں میں نسبت ایک اور آٹھ ہے اب دائرہ ہندیہ سے اولا نصف النہار کا تعین کریں جو یہاں خط شمال و جنوب ہے پھر زاویہ قائمہ پر محلِ آبادی میں متقاطع اس نصف النہار پر دوسرا خط مشرق و مغرب بنائیں یہی خط اعتدال ہے، اب نقطہ تقاطع سے پانچ درجہ کے بعد شمالی پر خط اعتدال کے محاذی دوسرا خطِ اعتدال بنائیں اس کا گزر مکہ مکرمہ سے ہوگا وہاں بھی مکہ مکرمہ میں شمال و جنوب ایک دوسرا خط بنائیں اب یہاں ایک مستطیل شکل سامنے ہوگی اور اس کا ہر ایک زاویہ 90 درجے کا ہوگا ان خطوط اربعہ کو اگر دیوارِ خانہ فرض کریں تو مشرق یا مغرب کی دیوار جس مقدار میں طویل ہوگی اس کا آٹھ مثل طویل شمال یا جنوب کی دیوار ہوں گی خطِ اعتدال شمالی اور خطِ شمال و جنوب مغربی کا نقطہ تقاطع آغوش کعبہ میں ہوگا جبکہ خطِ شمال و جنوب مشرقی اور خطِ اعتدالِ جنوبی کا نقطہ تقاطع محلِ آبادی ہے اب اس مقام سے مکہ مکرمہ تک اور ایک ایسا خط بنائیں جو اس شکلِ مستطیل کو دو مثلث میں تقسیم کردے اب مثلث کے ایک زاویہ حادہ میں کعبہ تو دوسرے میں وہ آبادی ہے ، جبکہ یہ پانچواں خط سابقہ چاروں خطوط سے اطول ہوگا یہی استقبالِ قبلہ ہوا،۔

یہاں کے استقبالِ قبلہ میں یہی انحراف و انصراف ہے،
کتب فقہ میں نصف النہار اور استقبالِ قبلہ کے لئے اسی سے کام لیا جاتا رہا اسی کے بارے میں سیدنا سرکار اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں
،کتب متداولہ ہیأت میں جو طریقئہ معرفتِ سمت کا لکھا جسے سیدالمحققین علامہ سید شریف قدس سرہ الشریف نے  تحقیقی گمان فرمایا اور عندالتحقیق تحقیق نہیں تقریب ہے۔(فتاوٰی رضویہ جلد3 ص،39)۔

فاضل بریلوی کا یہ بیان دائرہ ہندیہ کے بارے میں ہی ہے اسی سے متعلق سید المحققین علامہ میر سید شریف قدس سرہ الشریف نے تحقیقی گمان فرمایا تھا، اور اس سے استخراج کردہ استقبالِ قبلہ کو انھوں نے محقَق قرار دیا تو اس پر محقق بریلوی نے اسے تحقیقی نہیں بلکہ تقریبی ہونے کی نشاندہی فرمائی، اس لئے کہ عام انسان تو اس طریقئہ استخراج کو قبول کرنے میں سرعت کا اظہار کرینگے ہی کیونکہ عمومِ ذہن و فکر کے لئے اس کو قبول کرنا بہت آسان ہے کہ ہر ایک ذہن کے لئے اپنے تصورِ قامت اور تصورِ حالتِ قیام دونوں کا انطباق کچھ دشوار ہے بلکہ جسے ان دونوں کا ادراک ہوگا اس کے سامنے یہ بھی منکشف ہوجا ئیگا کہ دائرئہ ہندیہ سے نصف النہار کا استخراج تو سہل اور تحقیقی ہے لیکن تعینِ سمت محقق نہیں بلکہ مقرب ہے، یہ طریقہ وہاں تو صحیح صحیح رہنمائی کریگا جب ہمارا قیام فرش مسطح پر ہو، ۔

اختیارات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطا لعہ کریں

جبکہ زمین مسطح نہیں بلکہ ایک کرہ ہے درمیانِ سطح مستوی کے مشرق و مغرب کا خط مستقیم جس نے اس سطح کو شمال و جنوب دو برابر حصوں میں تقسیم کیا، اسے خط استوٰی فرض کرنے پر اس سے شمال میں ایک فٹ کے فاصلہ پر ایک نقطہ فرض کریں، جو کسی آبادی کا قائم مقام ہو، اس آبادی سے مغرب کو ایک فٹ کے فاصلہ پر دوسرا نقطہ رکھا جائے استوٰی سے جس کا فاصلہ ڈیڑھ فٹ کا ہو تو یقینا پہلے نقطہ سے دوسرا نقطہ شمالی اور دوسرے سے پہلا جنوبی ہوگا، کہ ان نقطوں کا فاصلہ جس مقدار میں استوٰی سے شمالی یا جنوبی ہوگا وہی بعد ان کے مشرق و مغرب کو بھی حاصل رہیگا کہ سطح مستوی پر خط مقسم سے شمالی یا جنوبی مفروضہ نقطہ کا جو بعد اس کے استوٰی سے ہوگا اسی کے مطابق اس کے مشرق و مغرب کے بعد میں بھی شمال یا جنوب کی طرف زیادتی ہو گی، جبکہ ہمارا معاملہ سطح مستوی کا نہیں بلکہ کروی کا ہے ہمارے مشرق و مغرب ہمارے نصف النہار کے دونوں قطب ہیں جو عرض صفر میں واقع ہیں، ان دونوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی عرضِ آبادی چاہے قطب شمالی یا قطب جنوبی سے قریب تک واصل ہو،۔

اس لئے کہ یہاں عرض آبادی کی زیادتی کے مطابق انسانی قد کا جھکاؤ بھی قطبِ ظاہر کی طرف ہوتا جائیگا یہی وجہ ہے کہ خط استوٰی اور قطب میں کھڑے دو آدمیوں کے پیروں کے مابین جو فاصلہ ہوگا اس کے مقابلہ میں ان دوں کے سروں کے درمیان کا فاصلہ زائد ہوگا، ہاں دائرہ ہندیہ سمت قبلہ کے لئے چند ایسے مقامات  جب درست رہنمائی کریگا جو فصل کم میں عدیم العرض ہوں، نہ کہ روئے زمیں کے ہر ایک مقام کے لئے،۔

اے غافل انسان ہوش میں کا مطالعہ کریں

مثلا فصل زائد کا ایک مقام جو عرض جنوبی 45درجہ میں ہے اور اس کا عرض موقع 30 درجہ تو اس کا استقبال قبلہ جنوبی ہوگا، لیکن یہ دائرہ ہندیہ جنوبی نہیں بلکہ شمالی قبلہ بتائے گا اس لئے کہ اس کا شمالی خط اعتدال جسے طوافِ کعبہ کا بھی شرف ملاہے وہ اس آبادی کے نصف النہار میں اس سے 66 درجہ 25 دقیقہ شمال میں ہے لیکن عند التحقیق اس کا قبلہ شمالی نہیں بلکہ جنوبی ہے، اس لئے کہ اس مقام کا عرض موقع معلوم ہے 30 درجہ جبکہ حرمِ پاک سے فصل زائد ہے تو موقعِ عمود اس کے نصف النہار میں زیرینِ افق ہوگا اور اسی موقع سے پندرہ درجہ شمال میں مذکورہ مقام کی سمت القدم ہے جو اول السموت میں واقع ہے اس سے موقع عمود جنوبی ہوا تو قبلہ بھی جنوبی ہوگا، اگرچہ روئے زمین پر اس کی جلوہ باری اس مقام سے 66درجہ25دقیقہ شمالی ہے لہذا چند مقامات کی وجہ سے دائرہ ہندیہ سے استخراجِ جہت کو تحقیقی کہنا کیسے مناسب ہوگا اس لئے امام احمد رضا نے اسے تقریبی فرمایا نہ کہ تحقیقی،
استقبالِ قبلہ کی حاجت شدید سے شدید تر اور جاجت روائ کے آلات و اسباب نہ ہونے کے برابر،۔

ادھر اسلام کی سرحدیں روئے زمین کو بھی محیط ہوئیں نہ یہ حجاز مقدس میں ہی محدود اور نہ صرف خط استوٰی کے فصلِ کم میں ہی موجود، نماز کی فرضیت سے فرار کہاں ، آفاقی کو جہت قبلہ بتانے کے ذرائع کہاں، جبکہ مسلمانوں میں صرف جہت پر اطمینان نہیں، استقبالِ قبلہ کی تلاش و جستجو میں بھی وہ سرگرداں ہیں ،
کعبہ کی جہات اربعہ کے باشندے مقابل نقاط جہات کو استقبالِ قبلہ متصور کریں تو ہرایک کے استقبال میں کعبہ نہیں، کہ سب کے لئے جہت کا تعین ایک نہیں، اور استقبالِ قبلہ کے استحقاق سے دست برداری کے حق میں بھی کوئی نہیں، جہات چار ہیں ان جہات میں مقامات لاکھوں ہیں پروانے کڑوڑوں ہیں اور شمعِ منور صرف ایک ہے، ستاروں سے رہنمائی حاصل کرنے کا مستحق بھی ہر ایک نہیں، کہ ان کی رفتار پر سب قابض نہیں، اور ہر ایک کو ان ستاروں کی امتیازی خصوصیات حاصل نہیں، جب رہنما ستارے ہی ممتاز نہیں تو پھر ان سے رہبری کی امید کا کیا معنی؟ پھر منزلِ مقصود تو خواب ہی رہیگی، نیرین سے خاطر خواہ نتیجہ بھی کچھ مخصوص حضرات کے لئے ہے، جنھیں ان دونوں کی حرکتوں پر پوری واقفیت ہو ، دشواریاں پھر بھی دامن گیر ہیں، کہ دونوں کے مشارق و مغارب سیکڑوں ہیں ،۔

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطا لعہ کریں


دائرہ ہندیہ سے دو کام لئے جارہے تھے ایک نصف النہار کے استخراج کا دوسرا سمت بلاد کے تعین کا جبکہ اس سے سمتی مؤامرات کا حال کس قدر تحقیقات سے دور تھا اس ایک مثال سےاندازہ ہو جاتا ہے جس کی ایک جھلک اس مذکورہ مقام سے ہی نظر آگئی ہے جو فصل زائد اور پینتالیس درجہ عرض جنوبی کا میں نے پیش کیا تھا، جس کا عرض عمود تیس درجہ کا تھا،
اور اس دائرہ ہندیہ سے توقیت کا حال بھی سب پر عیاں ہے کہ نصف النہار کے علاوہ صبح کاذب، صبح صادق، طلوعِ آفتاب، ضحوۃ کبرٰی، وقتِ ظہر، وقت عصر شافعی، وقتِ عصر حنفی، غروبِ آفتاب، غروبِ حمر، اور غروبِ بیاض، پھر ان دونوں پہلؤوں کو اہم عبادات نماز سے تعلق کا شرف بھی حاصل ہے ۔

لہذا امام المحققین سیدنا اعلی حضرت کے بابِ تحقیق میں ان دونوں طریقوں نے دستک دی، دونوں نے اپنی اپنی فریادیں سنائیں، اپنے اپنے حالات پیش کئے، دونوں پر نظر کرم ہوئی، مجددانہ قلم نے انگرائی لی دائرہ ہندیہ کے دو عنوان کو ایک ایک موضوع کا درجہ ملا
سمتِ بلاد ہیئت سے متعارف ہوئی جبکہ معرفتِ اوقات کے ہاتھوں میں توقیت کا پرچم آیا،
ہیئت میں یوں تو فاضلِ بریلوی کے درجنوں فتاوے پیشِ نظر ہیں جن میں سے ہر ایک میں کسی نہ کسی شق پر سیر حاصل بحثیں ضرور موجود ہیں، ہر ایک فتوٰی آسمانِ علم و حکمت میں بدر منیر سے بھی زیادہ روشن اور تابناک ہے، ان کی شعاؤوں کی تجلیات کو کچھ وہی حضرات زیادہ بیان کرسکتے ہیں، خلاء پیمائی کے جو ماہرین ہیں،فرشِ زمین پر گھٹنوں کے بل چلنے والے مجھ جیسوں سے اس کی کیا امید؟ ہاں  وہ کتابیں جن سے صرف فصل کم استوائی کو ہی قبلہ نہیں دکھایا گیا اور نہ صرف نصف النہار کا تعین کیا گیا بلکہ زمین کے گوشے گوشے کو جن سے قبلہ نظر آیا توقیت اور نجوم کو جن کے احاطہ میں پایا ،کرئہ زمیں جن سے منور ہو گیا اور فلکیات و ارضیات کے بارے میں امت مسلمہ نے جن سے بہت زیادہ  استفادہ کیا امام احمد رضا کی وہ چند کتب مبارکہ مندرجہ ذیل ہیں۔

۔(1) ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال۔
۔(2) زاکی البھا فی قوۃ الکواکب و ضعفھا
۔(3) مسفر المطالع للتقویم والطالع
۔(4) ستین و لوگارثم
۔(5) اقمارالانشراح لحقیقۃ الاصباح
۔(6) الصراح الموجز فی تعدیل المرکز
۔(7) جادۃ الطلوع والحمر للسیارۃ والنجوم والقمر
۔(8) الانجب الانیق فی طرق التعلیق
۔(9) زیج الاوقات للصوم والصلوات
۔(10) تاجِ توقیت
۔(11) کشف العلۃ عن سمت القبلۃ
۔(12) درء القبح عن درک وقت الصبح
۔(13) سرالاوقات
۔(14)الجواہر والیواقیت(درسِ توقیت کی نقل بقلمِ ملک العلماء)

محمد رفیق الاسلام نوری منظری
جامعہ شکوریہ بلہور کانپور یوپی
۔8ربیع النور1441
ھ۔۔

View Comments