Categories: اردو مضامین

فرضی مزارات کا بڑھتا دائرہ اہل سنت کے لئے لمحئہ فکریہ

الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

اسوقت اہل سنت و جماعت جس نزاکت اور چیلنجز کے دور سے گزر رہی یے وہ محتاج تعارف نہیں۔یہ فتنوں کا دور یے اس وقت کا ایک بڑا فتنہ فرضی مزارات کا بھی ہیں۔اسی  مناسبت سے آج  کے مضمون کا عنوان بھی ہے فرضی مزارات کا بڑھتا دائرہ ایل سنت کے لئے لمحئہ فکریہ۔جس کو ناشرمسلک اعلیٰ حضرت حضرت علامہ مفتی احمد رضا مصباحی نے مرتب کیا یے ۔رب العالمین مفتی صاحب کے علم و عمل ،رزق و صحت میں بے پناہ برکتیں عطافرمایئں

فرضی مزارات کا بڑھتا دائرہ اہلسنت کے لئے لمحۂ فکریہ

اس وقت اہلسنت وجماعت جس نزاکت اور چیلنجز کے دور سے گزر رہی ھے وہ محتاج بیان نہیں ہے ہر طرف بے اطمنانی اور غیر یقینی صورت حال اس پر جہلائے زمانہ کے ہاتھوں میں مساجد مدارس اور جلسے و جلوس کی قیادت کسی دیباچۂ قیامت سے کم ہر گز نہیں

اس ضمن میں ایک بہت بڑا المیہ فرضی اور غیر معتبر مزارات کا وسیع ہوتا دائرہ اور اس کے احاطے میں ہونے والے سالانہ اعراس اور خلاف اسلام دھوم دھڑاکے کی حرکتیں بھی ہیں نعوذ باللہ منہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم اگر صرف اپنے علاقے (ضلع اتردیناجپور بنگال کے شمالی مشرقی حصہ )کی بات کریں تو یہاں پچاس سے ساٹھ مربع میل کے اندر ایسے بیسوں مزارات مل جائیں گے جن کی عمارتیں فرضی اور منامی قبروں کی بنیاد پر کھڑی ہیں جن پر چند شہ زور فساق وفجار کا تسلط ھے اور سالانہ عرس کے ذریعے وہ لاکھوں کا مال اینٹھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان جگہوں میں اعراس کے مواقع پر مزارات کے اندر سخت غیر شرعی حرکتیں ،مردوزن کا اختلاط ، ناقابل بیان بے حیائی اور بےغیرتی کا شیطانی مظاہرہ اہلسنت کے لئے ایک خطرناک صورت حال پیدا کردیا ھے۔

افسوس تو اس بات کا ھے کہ اعراس کی آڑ میں بدعات وخرافات کا یہ سیلاب اہلسنت کے اصل جسم کو نگلتا جارہاھے اور اس کے خلاف منہ کھولنے کو کوئی تیار نہیں نہ اس کے تدارک کے لئے کسی کے پاس کوئی پلان ہے۔۔
حالانکہ شرعی تقاضوں کے پیش نظر ان حرکتوں کے خلاف کم از کم جہاد باللسان از حد ضروری ہوچکا ھے اور خیر امت کا منصب بھی یہی ھے کما قال اللہ تعالیٰ :

كُنتُمْ خَيرَْ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ: تم بہتر ہو ان امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو(آل عمران110)
مسلم شریف میں حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ : تم سے جوکوئی کسی برائی کو دیکھے تو چاہئے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے روکے پس اگر اس کی طاقت نہ ہوتو زبان سے روکے اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہوتو کم از کم دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے (صحیح مسلم باب ۔النَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ مِنَ الْإِيمَانِ )

اور اس بات میں مطلقا کوئی شبہ نہیں رہنا چاہئے کہ مصنوعی مزار کی تعمیر اس کی زیارت وعرس شرعا بدعت وناجائز ھے اور اس کے زائرین لعنت و ملامت کا مستحق بنتے ہیں جیساکہ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی قدس سرہ نقل فرماتے ہیں : لعن اللہ علی من زار بلا مزار : یعنی فرضی مزار کی زیارت کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہوتی ھے :( فتاوی عزیزیہ)۔
سرکار سیدی اعلی حضرت قدس سرہ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : فرضی مزار بنانا اور اس کے ساتھ اصل سا معاملہ کرنا ناجائز وبدعت ہے اور خواب کی بات خلاف شرع امور میں مسموع نہیں ہوسکتی۔ (فتاوی رضویہ)۔

مفتی عبد الخبیر اشرفی مصباحی کے خوبصورت مضمون اختیارات مطفیِٰ ﷺ کا مطالعہ کیجئے

اور قبر بلا مقبور پر عرس وفاتحہ کا اہتمام کرنے والوں اس کی طرف لوگوں کو بلانے والوں، اس میں منعقد ہونے والے محافل وجلسوں میں شرکت کرنے والوں اور کسی بھی اعتبار سے ایسے کام پر مدد کرنے والوں کے متعلق حکم شرع بیان فرماتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں رقمطراز ہیں : قبر بلا مقبور کی طرف بلانا اور اس کےلئے وہ افعال کرانا گناہ ہے، اور جبکہ وہ اس پر مصر ہے اورباعلان اسے کررہا ہے تو فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور پھیرنی واجب ۔ اس ۔۔جلسہ زیارت قبربے مقبور میں شرکت جائز نہیں، زید کے اس معاملہ سے جو خوش ہیں خصوصا وہ جو ممدومعاون ہیں سب گنہگار وفاسق ہیں قال تعالی: ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان : (ایضا)گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کر۔


فرضی اور مصنوعی مزارات کے متعلق جب حکم شرع یہ ھے کہ کسی بھی اعتبارسے اس کی مدد واعانت ہرگز جائز نہیں تو ملت کے ذمہ دار علماء و مشائخ کے لئے شرعا لازم ھے کہ وہ ایسے مزارات واعراس سے لوگوں کو منع کریں اور خود بھی ایسی جگہوں میں سجنے والی محفلوں سے دور رہیں تاکہ اہلسنت کا بول بالا ہو اور بدعات وخرافات سے ملت کا دامن پاک رھے ۔۔

ماہ صفر اور آخری بدہ کی حقیقت ،مکمل مضمون کا مطالعہ کریں
یقینا وقت کا ایک بہت بڑا المیہ یہ بھی ھے کہ عوام اہلسنت فرائض و واجبات اور دین کی ترجیحات میں دلچسپی نہ لیکر بہت سے غیر ضروری امور کو عملا وجوب کا درجہ دیدیاہے جن میں فرضی مزارات کی تعمیر وترقی اور بے ہنگم اعراس بھی شامل ہیں جن کے پیچھے وہ اپنی محنت ودولت دونوں برباد کر رہی ھے جبکہ کچھ دنیادار لوگ موقع کا فائدہ اٹھا کر اپنی جیبیں بھی گرم کر رھے ہیں۔۔


لیکن اہل بصیرت پر مخفی نہیں کہ اس کے نتائج بہت ہی خطرناک وسنگین ہوسکتے ہیں لہذا بروقت اس طرح کی لایعنی حرکتوں کے خلاف فوری اقدام اشد ضروری ہے۔

دعا ھے کہ اللہ تعالیٰ اس مصیبت سے قوم مسلم کو نجات عطا کرے ۔
تحریر، محمد احمد رضا مصباحی حنفی دیناجپور
جامعہ اہلسنت ضیاء العلوم کربلا روڈ کالپی شریف
ضلع جالون اتر پردیش8617008310