فضائل سیدنا غوث اعظم فتاوٰی رضویہ کی روشنی میں

مزار غوث اعظم ،فضائل سیدنا غوث اعظم

آہ! یاغوثاہ یا غیثاہ یا امداد کن
یا حیاۃ الجود یا روح المنا امداد کن

آج کے مضمون کا عنوان بہت ہی خوبصورت ہے ۔ جس کو حضرت مفتی احمد رضا مصباحی  نے مرتب کیاہے۔اس مضمون میں آپ مطالعہ کریں گے فضائل سیدنا غوث اعظم فتاوٰی رضویہ کی روشنی میں ،رب العالمین بطفیل حضور سیدنا غوث اعظم مفتی صاحب کے علم وعمل میں خوب خوب برکتیں عطا فرمائے

فضائل سیدنا غوث اعظم فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

اسم شریف الفرد الفرید، الغوث المجید، الغیث المجید، واھب النعم، سالب النقم، کاسب العدم صاحب القدم جودالجود وکرم الکرم، ملاذالعرب ومعاذالعجم، مناح العطایا، مناع الرزایا، القطب الربانی، الغوث الصمدانی، سیدنا ومولنا ابی محمد عبدالقادر الحسنی الحسینی الجیلانی، رضی اﷲ تعالی عنہ و ارضاہ (فتاوٰی رضویہ ج7)۔

کا اصل اسم شریف سید عبد القادر، کنیت ابو محمد والد ماجد کا نام مبارک  سید ابو صالح موسیٰ الملقب بہ جنگی دوست، والدہ ماجدہ کااسم مبارک سیدہ ام الخیر فاطمہ ھے (سوانح غوث اعظم)۔

تاریخ وجائے پیدائش،  آپ کی پیدائش رمضان کی چاند رات 470ھ /17مارچ 1077/78ء ایران کے قصبہ گیلان/ جیلان میں ہوئی اسی کی نسبت سے آپ جیلانی یا گیلانی کہلاتے ہیں

 

نسب نامہ پدری 

سید عبد القادر ،بن سید ابوصالح  موسیٰ جنگی دوست،بن سید ابو عبد اللہ الجیلانی، بن سید یحییٰ زاہد، بن سید محمد،بن سیدداؤد، بن سیدموسیٰ ثانی،بن سید عبداللہ، بن سید موسیٰ الجون، بن سیدعبداللہ المحض، بن سید حسن المثنیٰ،بن سیدنا امام المتقین سیدنا امام  حسن،بن امیرالمؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم۔

نسب نامہ مادری 

سیدہ ام الخیرفاطمہ، بنت سید عبداللہ صومعی، بن ابو جمال الدین، بن سید محمد، بن سید ابوالعطاء، بن سید کمال الدین عیسیٰ،بن سید علا الدین الجواد، بن امام علی رضا، بن امام موسیٰ کاظم، بن امام جعفر صادق، بن امام محمد باقر، بن امام زین العابدین، بن سید الشہداء سرکار امام حسین بن سیدنا امیر المومنین علی مرتضیٰ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔

نسب نامہ سے آپ کا نجیب الطرفین سید ہونا ظاہر ھے اور روافض کے سوا تمام فرقوں کا آپ کی سیادت پر اتفاق ھے۔

 

تحصیل علم

: آپ ایسے گھرانے کے چشم وچراغ تھے ،جس سے دنیا کو علوم وفنون کا،صدقہ ملا، اور جس سے نکلنے والی نہروں سے تشنگان علوم وفنون نے سیرابی حاصل کی اس کے باوجود آپ نے کبھی خود کو حصول علم کی مشقت سے مستغنی نہیں سمجھا

چنانچہ بچپن ہی سے شوق علم سے سرشارتھے اور اس کی تحصیل میں منہمک ہوگئے تھے جبکہ والدہ ماجدہ نے آپ کو از خوداتناعلم سیکھا ہی دیاتھا جو جمال زندگی کے لئے کافی تھا ،لیکن اس راہ میں (ہل من مزید ) کی طلب کبھی کم نہیں ہوتی

اس لئے اٹھارہ سال کی عمرتک اپنے آبائی قصبہ جیلان میں تحصیل علم فرماتے رہے پھر اساتذۂ وقت سے اعلیٰ تعلیم اخذ کرنے کے لئے مرکزعلم وفن شہر بغداد وارد ہوئے اور ہمیشہ کے لئے شہر بغداد کی علمی و دینی عظمت کا نشان وعلم بن کر چہار دانگ عالم مشہور ومعروف ہوگئے۔

کتب سوانح کے مطابق سرکار غوث الاعظم نے تحصیل علم کی خاطر جو مشقتیں اور جاں گسلیاں جھیلیں ،وہ آج کے طلبۂ مدارس کے لئے ایک زبردست فکری دعوت وبصیرت ھیں بالخصوص خانقاہی شہزادگان اور سیدزادگان کے لئے تو تازیانۂ عبرت ہیں ،جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم تو فلاں بزرگ کے مسند نشیں ہیں ہی ہم کو بھلا اس کی کیا ضرورت ھے ؟ ہم کو اوپر سے مل جائے گا، حالانکہ یہ ایک دھوکہ دہندہ خیال ھے جو جہالت کا نتیجہ ہے،  اللہ تعالیٰ ایسی تباہ کن سوچ سے ہم سب کو بچائے۔

اساتذہ کرام

آپ 488ھ/1095ء کو اٹھارہ سال کی عمر میں بغداد پہنچے اور علم فقہ وتفسیر،اصول وحدیث،منطق وفلسفہ،علم بیان وبدیع،وغیرہ تمام ظاہری علوم وفنون اصول وفروع کے ساھ مندرجہ ذیل نابغۂ روزگار علمی ہستیوں سے حاصل فرمایا۔

ابوالوفاء علی بن عقیلی، ابوالخطاب محفوظ کلوذانی،ابوالحسن محمد ابن قاضی ابو یعلی حنبلی قاضی ابوسعید مبارک بن علی المخذومی، ابو غالب محمد بن الحسن باقلانی،ابوسعید محمد بن عبدالکریم،ابو بکر احمد بن مظفر،ابو جعفر بن احمد بن الحسن القاری،ابو زکریا یحی بن علی تبریزی وغیرہم ، جبکہ سلوک وتصوف کاعلم مندرجہ ذیل نفوس قدسیہ سے حاصل کیا ، ابو الخیر حماد بن مسلم،قاضی ابوسعید مبارک المخزومی، رضوان اللہ علیہم اجمعین۔

بیعت و خلافت 

قلائد الجواہر کے مطابق حضرت  ۔ابوالخیر حماد بن دردۃ الدباس کے دست اقدس پر آپ نے بیعت فرمائی تھی اور حضرت قاضی ابو سعید مبارک المخزومی سے خرقۂ خلافت پہنا تھا، چنانچہ شجرۂ قادریہ میں حضرت ابو سعید مبارک قدس سرہ کاہی واسطہ آتاھے۔ جیساکہ شجرۂ قادریہ رضویہ شریف میں ہے۔

بوالفرح کاصدقہ کرغم کوفرح دے حسن وسعد
بو الحسن اور  بو سعید سعد زا  کے  واسطے

 

فضائل وکمالات

سرکار سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ آسمان فضل کمال کے آفتاب عالم تاب تھے ،آپ پر فضل خداوندی کا ایسا خاص سایہ تھا کہ دوسرے اولیاء اللہ  اس کو دیکھ کر محو حیرت تھے،

سربھلا کیا کوئی جانے کہ یے کیسا تیرا

اولیاء ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا

زیر نظر سطور میں فتاویٰ رضویہ شریف کی اس کی چندجھلکیاں نذر قارئین ہیں۔

آپ مجتہد مطلق کے منصب پر فائز تھے امام اہلسنت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں ـ ”حضورہمیشہ سے حنبلی تھے اوربعد کو جب عین الشریعۃ الکبری تک پہنچ کر منصب اجتہاد مطلق حاصل ہوا مذہب حنبل کوکمزو رہوتا ہوا دیکھ کر اس کے مطابق فتوی دیا کہ حضورمحی الدین اور دین متین کے یہ چاروں ستون ہیں لوگوں کی طرف سے جس ستون میں ضعف آتادیکھا اس کی تقویت فرمائی۔واﷲ تعالی اعلم” (فتاوی رضویہ،ج۔26)۔

فتاوٰی رضویہ میں سرکار اعلیٰ حضرت قدس سرہ حضرت قاضی ثناءاللہ پانی پتی علیہ الرحمہ کے حوالے سے لکھتے ہیں .“کارخانہ ولایت کے فیوض پہلے ایک شخص پر نازل ہوئے۔ پھر اس سے منقسم ہوکر ہر زمانے کے اولیاء کو ملے اور کسی ولی کو ان کے توسط کے بغیر فیض نہ ملا، حضرت غوث الثقلین محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ کے ظہور سے قبل یہ منصب عالی حسن عسکری علیہ السلام کی روح سے متعلق تھا، جب غوث الثقلین پیدا ہوئے تو یہ منصب آپ سے متعلق ہوا اور محمد مہدی کے ظہور تک یہ منصب حضرت غوث الثقلین کی روح سے متعلق رہے گا، اس لئے آپ نے فرمایا میرا یہ قدم ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے۔ پھر غوث پاک کا یہ قول”میرے بھائی اور دوست موسی بن عمران تھے” بھی اس پر دلالت کرتاہے* (فتاوٰی رضویہ ج21)۔

سمت قبلہ اور امام احمد رضا ،مکمل مضمون کا مطالعہ کریں

سرکار اعلیحضرت قدس سرہ نے دوسری جگہ اس کی تائید میں فرمایاھے : اس میں شک نہیں کہ حضورپرنور سیدناغوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کامرتبہ بہت اعلی وافضل ہے۔ غوث اپنے دورمیں تمام اولیائے عالم کاسردارہوتاہے۔ اورہمارے حضور امام حسن عسکری رضی اﷲ تعالی عنہ کے بعد سے سیدنا امام مہدی رضی اﷲ تعالی عنہ کی تشریف آوری تک تمام عالم کے غوث اورسب غوثوں کے غوث اور سب اولیاء اﷲ کے سردارہیں اور ان سب کی گردن پران کاقدم پاک ہے۔ (ایضا ۔ج26)۔

قدم مبارک اولیاء اللہ کی گردنوں پر

امام اہلسنت لکھتے ہیں:۔ کارخانہ ولایت کے فیوض پہلے ایک شخص پر نازل ہوئے۔ پھر اس سے منقسم ہوکر ہر زمانے کے اولیاء کو ملے اور کسی ولی کو ان کے توسط کے بغیر فیض نہ ملا، حضرت غوث الثقلین محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ کے ظہور سے قبل یہ منصب عالی حسن عسکری علیہ السلام کی روح سے متعلق تھا، جب غوث الثقلین پیدا ہوئے تو یہ منصب آپ سے متعلق ہوا اور محمد مہدی کے ظہور تک یہ منصب حضرت غوث الثقلین کی روح سے متعلق رہے گا، اس لئے آپ نے فرمایا میرا یہ قدم ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے۔ پھر غوث پاک کا یہ قول” میرے بھائی اور دوست موسی بن عمرا ن تھے” بھی اس پر دلالت کرتاہے(ایضاً.ج21)۔

  خود سرکار غوث اعظم رحمہ اللّٰہ نے باذن الہی اپنے مقام کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ھے “ہر ولی ایک نبی کے قدم پر ہوتا ہے اور میں اپنے جد اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے قدم پاک پر ہوں مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جہاں سے قدم اٹھایا میں نے اسی جگہ قدم رکھا مگر نبوت کے قدم کہ ان کی طرف غیر نبی کو اصلا راہ نہیں” ۔ (ایضا۔ج15)۔

 

جس وقت آپ نے  فرمایا تھا کہ ٫میرا یہ قدم تمام اولیاء اللہ کی گردنوں پر ہے ،اس وقت روئے زمین کے تمام اکابر اولیاء اللہ نے اپنی اپنی گردنیں خم فرمادی تھیں چنانچہ۔ بہجۃ الاسرار کے حوالے سے حضرت محدث بریلوی لکھتے ہیں ۔۔ حضور کے ارشاد پر جنہوں نے اپنے سر جھکائے ان میں سے (سلسلہ عالیہ سہروردیہ کے پیران پیر) حضرت سید عبد القاہر ابو النجیب سہروردی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں انہوں نے اپنا سرمبارک جھکادیا اور کہا (گردن کیسی) میرے سر پر میرے سرپر۔اوران میں سے حضرت سید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں انہوں نے کہا میری گردن پر، اورکہایہ چھوٹا سا احمد بھی انہیں میں ہے جن کی گردن پر حضو رکا پاؤں ہے ، اس کہنے اورگردن جھکانے کا سبب پوچھاگیا تو فرمایا۔

کہ اس وقت حضرت شیخ عبدالقادر نے بغداد مقدس میں ارشاد فرمایا ہے کہ ” میرا پاؤں ہر ولی کی گردن پر” لہذا میں نے بھی سرجھکایا اور عرض کی کہ یہ چھوٹا سا احمد بھی انہیں میں ہے ،اور انہیں میں حضرت سید ابو مدین شعیب مغربی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں انہوں نے سر مبارک جھکایا اور کہا میں بھی انہیں میں ہوں الہی میں تجھے اورتیرے فرشتوں کو گواہ کرتاہوں کہ میں نے قدمی کا ارشاد سنا اورحکم مانا۔ اسی طرح حضرت سید ی شیخ عبدالرحیم قناوی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی گردن مبارک بچھائی اورکہا سچ فرمایا سچے مانے ہوئے سچے نے ،رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔ (ایضا۔ج28)۔

حدیث افطار اور امام احمد رضا ،مکمل مضمون کا مطالعہ کریں

شان  بنظیر وکرامات

آپ کی شان بیان کرتے ہوئے کبیر الاولیاء حضرت سید احمد کبیر رفاعی قدس سرہ کہتے ہیں شیخ عبدالقادر وہ ہیں کہ شریعت کا سمندر ان کے دہنے ہاتھ ہے اور حقیقت کا سمندر ان کے بائیں ہاتھ ،جس میں سے چاہیں پانی پی لیں ۔ اس ہمارے وقت میں سید عبدالقادر کا کوئی ثانی نہیں رضی اللہ تعالی عنہ۔ (ایضا۔ج28،)۔

بہجۃ الاسرار میں ھے کہ رب تعالیٰ نے آپ کی شان کا ولی نہ پیدا کیا نہ کرے حضور اعلٰیحضرت قدس سرہ ناقل ہیں :مصنف (اللہ تعالی اس کی قبر کو خوشبوداربنائے) نے کہا کہ ہم کو ابوالمعالی صالح بن احمد مالکی نے خبر دی کہ ہم کو دو مشائخ کرام نے خبر دی، ایک شیخ ابوالحسن بغدادی معروف بہ خفاف ، دوسرے شیخ ابو محمد عبداللطیف بغدادی معروف بہ مطرز۔ اول نے کہا ہمارے پیرومرشد حضرت شیخ ابوالسعود احمد بن ابی بکر حریمی قدس سرہٗ نے ہمارے سامنے ۸۵۰ھ میں فرمایا ، اوردوم نے کہا ہم کو ہمارے مرشد حضرت عبدالغنی بن نقطہ نے خبر دی کہ ان کے سامنے ان کے مرشد حضرت شیخ ابوعمر وعثمان صریفینی  قدس سرہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم اللہ عزوجل نے اولیاء میں حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر رضی اللہ تعالی عنہ کا مثل نہ پیدا کیا نہ کبھی پیدا کرے۔۔(ج28ص387)۔

شان احیاء موتی

سرکار غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بعطاۓ الٰہی متعدد بار مردے زندہ فرمائے جیساکہ فتاوی رضویہ میں بہجۃ الاسرار شریف سے منقول ھے: ایک بی بی اپنا بیٹا خدمت اقدس سرکارغوثیت میں چھوڑگئیں کہ اس کا دل حضور سے گرویدہ ہے میں اللہ کے لئے اورحضورکےلئے اس پراپنے حقوق سے درگزری ، حضور نے اسے قبول فرما کر مجاہد ے پر لگادیا ایک روز اس کی ماں ائیں دیکھالڑکا بھوک اورشب بیداری سے بہت زار نزار زرد رنگ ہوگیا ہے اوراسے جوکی روٹی کھاتے دیکھا۔

جب بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئیں دیکھا حضورکے سامنےایک برتن میں مرغی کی ہڈیاں رکھی ہیں جسے حضور نے تناول فرمایا ہے ، عرض کی اے میرے مولی!حضور تو مرغ کھائیں اورمیرا بچہ جو کی روٹی ۔ یہ سن کرحضور پرنور نےاپنا دست اقدس ان ہڈیوں پر رکھا اور فرمایا :قومی باذن اللہ تعالی الذی یحیی العظام :جی اٹھ اللہ کے حکم سے جو بوسیدہ ہڈیوں کو جلائے گا۔یہ فرمانا تھا کہ مرغی فورازندہ صحیح سالم کھڑی ہوکر اواز کرنے لگی ،حضور اقدس نے فرمایا: جب تیرابیٹا ایساہوجائے وہ جوچاہے کھائے۔۔ (ایضا۔ج28)۔

اسی میں یہ کرامت بھی مذکور ھےکہ ۔۔ایک بارحضور کی مجلس وعظ پر ایک چیل چلاتی ہوئی گزری اس کی اواز سے حاضرین کے دل مشوش ہوئے حضور نے ہوا کو حکم دیا: اس چیل کا سر لے ۔ فوراچیل ایک طرف گری اوراس کا سر دوسری طرف۔ پھر حضور نے کرسی وعظ سے اترکر اس چیل کواٹھا کر اس پر دست اقدس پھیرا اوربسم اللہ الرحمن الرحیم کہا فورا وہ چیل زند ہ ہوکر سب کے سامنے  اڑتی چلی گئی۔۔۔(ایضا۔ج28)۔

اعلیٰ بحیثیت سائنسداں،مکمل مضمون کا مطالعہ کریں

اسی میں یہ عظیم الشان واقعہ بھی درج ھےکہ۔ ایک بزرگ نے فرمایا کہ میں اور شیخ علی ہیتی حضرت غوث اعظم رضی ﷲ تعالی عنہ کے مدرسہ میں تھے کہ اتنے میں بغداد کے ایک بزرگ تشریف لائے اور انہوں نے عرض کی اے آقا (غوث اعظم) آپ کے جدامجد رسول ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جودعوت دے اس کی دعوت قبول کی جائے

لومیں آپ کو اپنے گھرکے لئے دعوت دیتا ہوں توآپ نے فرمایا اگر مجھے اجازت ملی توآؤں گا، یہ فرماکر آپ نے کچھ دیر سر مبارک کوجھکایا پھر فرمایا میں آرہاہوں آپ گھوڑے پرسوار ہوئے شیخ علی ہیتی نے دایاں رکاب اور میں نے بایاں رکاب پکڑا۔

حتی کہ ہم سب اس شیخ کے گھرپہنچے تووہاں پر بغداد کے مشائخ اور علما اور خاص لوگ موجودتھے دسترخوان بچھایاگیا جس پر مختلف قسم کی نعمتیں موجود تھیں اور ایک بھاری بوجھل تابوت کودس آدمی اٹھائے ہوئے لائے جواوپر سے ڈھانپا ہواتھا وہ دسترخوان کے قریب ایک طرف رکھ دیاگیا، اس کے بعد صاحب خانہ شیخ نے کھاناکھانے کوکہا تو حضرت غوث اعظم نے سرمبارک جھکایا نہ خود کھانا تناول فرمایا اور نہ ہی ہمیں کھانے کی اجازت دی۔

اور کسی نے بھی نہ کھایا جبکہ تمام اہل مجلس ایسے خاموش سر جھکائے ہوئے تھے جیسے کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔یعنی اہل مجلس کہ تمام اولیاء وعلماء وعمائد بغداد تھے ہیبت سرکار قادریت کے سبب ایسے بیٹھے تھے گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں۔

حضرت نے مجھے اور شیخ علی ہیتی کو اشارہ فرمایا کہ اس تابوت کو میرے سامنے لاؤ، وہ بھاری تابوت ہم نے اٹھاکر آپ کے سامنے رکھ دیا پھر آپ نے فرمایا اس پرسے کپڑا ہٹاؤ، جب ہم نے دیکھا وہ اس شخص کالڑکاتھا جومادر زاد نابینا اور مفلوج تھا تو حضرت نے اس لڑکے کوحکما فرمایا قم باذن اﷲ معافی (اﷲ کے حکم سے کھڑے ہوجاؤ عافیت والے ہوکر) وہ لڑکا فورا تندرست حالت میں کھڑاہوگیا جیسا کہ اسے کوئی تکلیف ہی نہ تھی۔

اس کے بعد حضرت حاضرین میں سے اٹھ کر پوری جماعت کے ساتھ باہرتشریف لے گئے اور کچھ نہ کھایا۔ اس کے بعد میں شیخ ابوسعید قیلوی کے پاس گیا اور ان کو میں نے یہ تمام قصہ سنایا توانہوں نے فرمایا کہ شیخ عبدالقادر رضی اﷲ تعالی عنہ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کوتندرست اور مردے کو زندہ اﷲ کے اذن سے کرتے ہیں (فتاوٰی رضویہ۔ج7)۔

علم فلکیات کا ارتقا باب احمد رضا تک،مکمل مضمون کا مطالعہ کریں

آن واحد میں ایک شخص کو مقام قطبیت عطا کردیا

حضور اعلیحضرت علیہ الرحمہ نقل فرماتے ہیں کہ ، حضورسیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے ایک نصرانی کے گھرتشریف لے جاکر اسے سوتے سے جگاکر کلمہ پڑھنے کاحکم دیا اس نے فورا پڑھ لیا۔ فرمایا: فلاں جگہ کاقطب مرگیا ہے ہم نے تجھے قطب کیا۔ نیزایک بارایک نصرانی کوکلمہ پڑھاکراسی وقت ابدال میں سے کردیا۔* (فتاوی رضویہ۔ج26)۔

تمام فرشتوں کا آپ سے مصافحہ کرنا ، سرکار اعلیٰ حضرت قدس سرہ لکھتے ہیں کہ  کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف میں حضور پرنور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے ذکراقدس میں صلوۃ الرغائب کاذکرآیاہے کہ شب رغائب میں اولیاء جمع ہوئے الی آخر کلماتہ

نیز امام ابوالحسن نورالدین علی قدس سرہ، نے بسند خود حضرات عالیات سیدنا سیف الدین عبدالوہاب و سیدنا تاج الدین ابوبکر عبد الرزاق ابنائے حضورپرنور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کی کہ روزجمعہ پنجم رجب ۵۴۳ کو حضرت شیخ بقابن بطو قدس سرہ العزیز صبح تڑکے مدرسہ انور حضور پرنوررضی اﷲ تعالی عنہ میں حاضرآئے اور ہم سے کہا مجھ سے پوچھتے نہیں کہ اس قدر اول وقت کیوں آیا میں نے آج کی رات ایک نور دیکھا

جس سے تمام آفاق روشن ہوگئے اور جمیع اقطار عالم کوعام ہوا اور میں نے اہل اسرار کے اسراردیکھے کہ کچھ تو اس نور سے متصل ہوئے ہیں اور کچھ کسی مانع کے سبب اتصال سے رک گئے ہیں جو اس سے اتصال پاتاہے اس کانور دوبالاہو جاتاہے تو میں نے غورکیا کہ اس نور کاخزانہ ومنبع کیاہے کہاں سے چمکا ہے ناگاہ کھلا کہ یہ نور حضور پرنورسیدنا شیخ عبدالقادر رضی اﷲ تعالی عنہ سے صادرہواہے

اب میں نے اس کی حقیقت پراطلاع چاہی تو معلوم ہوا کہ یہ حضور کے مشاہدے کانورہے کہ حضورکے نور قلب سے مقابل ہوکر ایک کی جوت دوسرے پرپڑی اور دونوں کی روشنی حضور کے آئینہ حال پرمنعکس ہوئی اور یہ آپس میں ایک دوسرے کی جوت بڑھانے والے نوروں کے بقعے حضور کے مقام جمع سے منزلت قرب تک متصل ہوئے کہ سارا جہان اس سے جگمگا اٹھا اور جتنے فرشتے اس رات اترے تھے سب نے حضور کے پاس آکرحضور سے مصافحہ کیا فرشتوں کے یہاں حضورکانام پاک شاہد مشہود ہے۔

دونوں شاہزادگان دوجہاں نے فرمایا ہم یہ سن کر حضور پرنورکے پاس حاضر ہوئے اور حضور سے عرض کی کیا آج کی رات حضور نے صلوۃ الرغائب پڑھی۔

حضورپرنور رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس پر یہ اشعار ارشادفرمائے(مفہوم اشعار):جب میری آنکھ میری پیاریوں کے چہرے دیکھے تویہ شبہائے رغائب میں میری نمازہے ، وہ چہرے کہ جب اپنے جمال کاجلوہ دکھائیں تو ہرطرف سے سارا جہان چمک اٹھے اور جس نے محبت کا حق پورانہ کیا وہ کبھی کوئی واجب نہ لایا (پیاریاں عالم قدس کی تجلیاں ہیں)

اور بہجۃ الاسرارشریف میں فقیرنے یوں دیکھا کہ کوئی فرشتہ باقی نہ رہا جو اس رات زمین پرنہ اترا اور حضورکے پاس آکر حضورسے مصافحہ نہ کیا ہو یعنی تمام ملائکۃ اﷲ زمین پر آئے اور محبوب خدا سے مصافحے کئے(  واﷲ تعالی اعلم ۔(فتاوی رضویہ۔ج7،)۔

منقبت غوث اعظم،مطالعہ کریں

آپ نے اسلام کو حیات نو بخشی رب تعالیٰ اپنے مقبول بندوں سے دین کو قائم فرماتا ھے اور ان کی برکتوں سے دوسروں تک اسلام کی نعمتیں پہنچتی ہیں ،سرکار غوث اعظم قد سرہ کی ہستی بھی ایسی ہی تھی کہ رب کریم نے آپ سے احیاء دین کا کام لیا اور اپنی طرف سے آپ کو محی الدین کا لقب عطا فرمایا۔

فتاوی رضویہ میں ھے کہ: اپ رضی ا للہ عنہ سے پوچھا گیا حضور!اپ کا لقب مح الدین کیسے ہوا؟اپ نے جواب دیا میں ۵۱۱؁ھ میں اپنی کسی سیاحت سے جمعہ کے دن بغداد لوٹ رہا تھا اس وقت میرے پاؤں میں جوتے بھی نہ تھے راستہ یں ایک کمزور اورنحیف ، رنگ بریدہ مریض ادمی پڑا ہوا ملا۔

اس نے مجھے عبدالقادرکہہ کر سلام کیا میں نے اس کا جواب دیا تو اس نے مجھے اپنے قریب بلایااورمجھ سے کہا کہ اپ مجھے بٹھا دیجئے ۔ میرے بٹھاتے ہی اس کا جسم تروتازہ ہوگیا سورت نکھرائی اورارنگ چک اٹھا مجھے اس سے خوف معلوم ہوا ، تو اس نے کہامجھے پہچانتے ہو، میں نے لاعلمی ظاہر کی۔

تو اس نے بتایا میں ہی دین اسلام ہوں اللہ تعالی نے اپ کی وجہ سے مجھے زندگی دی،اوراپ محی الدین ہیں۔میں وہاں سے جامع مسجد کی طرف چلا، ایک ادمی نے اگے بڑھ کر جوتے پیش کئے اورمجھے محی الدین کہہ کر پکارا، میں نماز پڑھ چکاتو لوگ چہارجانب سے مجھ پر ٹوٹ پڑے میراہاتھ چومتے اورمجھے محی الدین کہتے ۔ اس سے قبل مجھے کسی نے محی الدین نہیں کہا تھا۔” (ایضا۔ ج۔28)۔

مضمون بہت طویل ہوگیا اس لئے آخر پڑاؤ امام اہلسنت مقبول بارگاہ غوثیت سرکار اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے اس اقتباس سے پار کرتاہوں آپ نہایت عاجزی کے ساتھ رقمطراز ہیں

گدائے بے نوافقیرناسزااپنے تاجدارعظیم الجو عمیم العطا کے لطف بے منت وکرم بے علت سے اس صلے کاطالب کہ عفووعافیت وحسن عاقبت کے ساتھ دارناپائدار سے رخصت ہوتے مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے عزیز پسر، بتول زہرا کے لخت جگر، علی مرتضی کے نورنظر، حسن وحسین کے قرئہ بصر، محی سنت ابی بکر و عمرصلی اﷲ تعالی علی الحبیب وعلیھم وسلمیعنی حضورغوث صمدانی قطب ربانی واہب الآمال ومعطی الامانی حضور پرنور غوث اعظم قطب عالم محی الدین ابومحمد عبدالقادر حسنی حسینی جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ وارضاہ وجعل حرزنا فی الدارین رضاہ کی محبت وعشق وعقیدت واتباع واطاعت پرجائے او جس دن یوم ندعواکل اناس بامامھم (جس دن ہرجماعت کوہم اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔)کاظہور ہو یہ سراپا گناہ زیر لوائے بیکس پناہ سرکار قادریت ظل آلہ جگہ پائے (فتاوٰی رضویہ ج7)۔

نوٹ: راقم کی زیر ترتیب کتاب” تذکرۂ غوث اعظم فتاوی رضویہ کی روشنی میں” تیاری کے آخری مرحلے میں ھے احباب دعا فرمائیں کہ اللہ رب العزت طباعت کے اسباب پیدا فرمادے آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

________________________________________________
                ترتیب وتحریر
محمد احمد احمد رضا مصباحی حنفی دیناجپوری
جامعہ اہلسنت ضیاء العلوم کربلاروڈ کالپی شریف
ضلع جالون یوپی  

  سنی علما ویب سائٹ کو عام کرنے میں ہماری مدد کریں
www.sunniulma.com

GHULAM SAMDANI: جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا