لاک ڈاؤن کے پیشِ نظر مدارسِ اسلامیہ کے وسائل سے متعلق چند گزارشات

قارئین کرام۔۔ غلام مصطفیٰ رضوی کا موجودہ حالات کے تناظر میں بہت ہی لاجواب مضمون کا مطالعہ کریں لاک ڈاؤن کے پیشِ نظر مدارسِ اسلامیہ کے وسائل سے متعلق چند گزارشات

لاک ڈاؤن کے پیش نظر مدارس اسلامیہ

    اِسلامی مدارس کا نظام چلانے کے عمومی وسائل تین طرح کے ہیں
   ۔ [۱] عام عطیات، زکوٰۃ، فطرہ و صدقات
   ۔ [۲] چرمِ قرباں
    ۔[۳] دیگر وسائل (کا مپلیکس، کرایہ جات وغیرہ)

    بعض ریاستوں میں مدرسہ بورڈ قائم ہے، بورڈ سے جو مدارس ملحق ہیں وہاں اساتذہ کی تنخواہ کا مسئلہ نہیں؛ لیکن عموماً اکثر مدارس عوامی تعاون سے ہی چلتے ہیں۔٢٠١٤ء میں جب کہ آر ایس ایس حامی اقتدار آیا؛ بڑے جانوروں کے ذبح پر امتناع عائد کر دیا گیا، عالمی معاشی بحران میں چرم کے دام انتہائی پستی پر جا پہنچے۔

ان دونوں اسباب سے مدارس کے وسائل شدید متاثر ہوئے۔ پہلے ہی مدارس کی حالت انتہائی کم زور تھی۔مدارس کا سب سے اہم ذریعۂ آمدن زکوٰۃ و عطیات، صدقات اور فطرۂ عیدین ہیں ۔ جب کہ آخر الذکر وسائل کرایہ جات و مدارس کی اضافی پراپرٹی کا معاملہ؛ بعض مدارس کو چھوڑ کر تقریباً مفقود ہے۔ 

    مجموعی طور پر مدارس کا زیادہ انحصار زکوٰۃ و عطیات پر ہے، جن کا عمومی اہتمام ماہِ رمضان المبارک میں کیا جاتا ہے۔ سفیر شہر بہ شہر اور کوٗ بہ کوٗسفر کرتے ہیں۔ ماہِ رمضان میں تگ و دَو کرتے ہیں؛ تب جا کر مدارس کی کفالت ہوتی ہے۔ یہی مدارس ہیں جن کے ذریعے دین ہم تک پہنچا ہے۔ اور انھیں مدارس کے ذریعے اردو زبان زندہ ہے۔

انگریزی عہد سے ہی مدارس کے خلاف مختلف محاذ قائم ہیں، کبھی مشرکین کی ریشہ دوانیاں رہیں، کبھی سنگھی قوتوں کے حملے۔ نامساعد حالات میں بھی مدارس کی بوسیدہ چٹائیوں سے خستہ لبادوں میں اُٹھنے والے بادل ابرِ بارندہ بن کر برستے رہے۔ ایمان کی فصل ہری بھری ہوتی رہی۔ دلوں میں اسلامی انقلاب کی دستک فارغینِ مدارسِ اسلامیہ دیتے رہے اور اسلام کا کاروانِ صدق و وفا کامیابی سے آگے بڑھتا رہا۔ملک سے انگریزی استبداد کے خاتمہ کے لیے سب سے پہلی آواز فارغین مدارس نے بلند کی۔

دہلی کی جامع مسجد سے انگریز کے خلاف فتویٰ جہاد علامہ فضل حق خیرآبادی نے جاری کیا۔ جس کی تائید میں علما کا کارواں سامنے آیا اور ملک آزادی کی راہ پر گامزن ہوا۔

    اسلام دُشمن قوتوں نے ہمیشہ مدارس کو نشانہ بنایا۔ وسائل پر حملے کیے۔ اُنھیں در اصل دین اسلام سے چِڑھ تھی۔ اُنھیں معلوم تھا کہ مسلمانوں کی اسلامی زندگی مدارس کی مرہونِ منت ہے۔ اِسی لیے کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا کہ جس سے مدارس تعطل و جمود کا شکار ہوں۔ 

کرونا وائرس اور نفرتوں کا وائرس:*  کرونا وائرس چین سے نکلا۔ دُنیا میں پھیل گیا۔جس کے سبب زندگی جمود کا شکار ہو گئی۔ بیش تر ممالک لاک ڈاؤن سے گزر رہے ہیں۔ معاشی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ کاروبار بند ہیں۔غریب ؛غریب تر ہو چکا ہے۔ متوسط طبقہ  بھی اِس بحران میں معاشی کرب سے گزر رہا ہے؛ پس ماندہ طبقہ کی حالت تو بد سے بدتر ہو چکی ہے۔

اِدھر ہند کی سرزمین پر ایک مدت سے نفرتوں کا وائرس پھیل چکا ہے، جس کا مشاہدہ ہر جہت سے ہو رہا ہے۔ ہر جگہ نفرت اور زہریلی فضا قائم ہے۔ اقتدار نے اِس کو پروان چڑھایا۔ بلکہ کرونا وائرس جو چین سے برآمد ہوا؛ اُسے زبردستی مسلم بستیوں سے جوڑ کر دیکھا اور دِکھایا جا رہا ہے۔ اِن نفرتوں کے ماحول میں بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ اپنے دین کے لیے فکر کریں؛ اسلامی مدارس کے سلسلے میں غور و فکر سے کام لیں اور مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کر لیں۔

تعلیمات حضرت نوری میاں مارہروی کی عصری معنویت

خوف خدا سے دوری گناہوں پر دلیری کورونا سب پر بھاری

مدارس کی مالی مشکلات
    مدارس کے مالی وسائل کا بنیادی ذریعہ زکوٰۃ ہے۔ جس کا عمومی ماحول رمضان المبارک ہے۔ ماہِ رمضان کی آمد آمد ہے۔ ملک میں لاک ڈاؤن جاری ہے۔ توقع ہے کہ ١٤؍اپریل کو یہ چند روز کے لیے ختم ہو۔ یا پھر مزید توسیع پائے۔یا پھر یہ لاک ڈاؤن رمضان تک ختم بھی ہو جائے تو اس کے بعد کی کیفیت نارمل رہے گی؛ اس کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

بہر کیف!!     انھیں ایام میں اگر سفرا چندے کی غرض سے نکل کھڑے ہوئے تو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اِس لیے بہت محتاط رہ کر فیصلے لینے کی ضرورت ہے

۔ [۱] مساجد میں چندے کے ذرائع مفقود ہیں۔ اس لیے کہ پانچ سے زیادہ نمازی کی اجازت نہیں۔اگر آگے اجازت مل بھی جائے تو حالات تبدیل ہوتے دیر نہیں لگتی۔اِس لیے فی الحال مدارس کے لیے مساجد سے چندہ کی کوئی اُمید نہیں۔ 
۔[۲] بیرونی افراد کو کرونا کے ڈر سے کسی مقام پر اقامت/خورد ونوش میں دِقتوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔
۔[۳] جگہ جگہ ہندو توا نفرتوں کے خدشات ہیں، جس نفرت کی اقتدار نے پرورش کی ہے اس کا نشانہ مسلمان ہیں اِس پہلو کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔ پھر حالت مسافرت میں  کی آڑ میں دور افتادہ سفرا سے پولیس پوچھ تاچھ بھی کر سکتی ہے-

پھر کیا کریں؟
۔[۱] اصحابِ خیر، امرا، رؤسا یہ کریں کہ جن جن مدارس کو چندہ دیتے تھے؛ ان کی رقمیں محفوظ کر دیں، یا از خود مدرسہ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیں۔ 
۔[۲] بڑے مدارس کا کلیکشن مدرسہ سے متوسل کوئی معتمد فرد یا ادارہ یا تنظیم کر لے۔ اور بحفاظت وہ امانت مدرسہ کو بھیج دے۔
۔[۳] سفرا، منتظمینِ مدرسہ قبل از رمضان رؤسا/امرا/ اصحابِ خیر سے رابطہ کر کے متعین رقم محفوظ کروا لیں، یا اکاؤنٹ میں منتقل کروائیں یا بعد از رمضان حالات کے سدھرتے ہی آنے کا عندیہ دے کر چندہ کو متعین کروائیں۔
۔[۴] صبر و دور اندیشی سے کام لیں۔ حالات کو پیشِ نظر رکھ کر بجٹ تیار کریں۔ ممکن ہے کہ ان حالات میں شارٹ ٹرم( ایک سالہ) منصوبہ بندی کرنی پڑے۔ قلیل آمدنی سے ہی ادارہ چلانے کی نوبت متوقع ہے۔جس کے لیے ہوسٹل ،انتظامی امور، تعمیراتی سرگرمیوں میں تخفیف کی سفارش کی جا سکتی ہے۔ نئے داخلوں میں مقامی طلبہ کی تعداد میں اضافہ مفید ہو سکتا ہے؛ بجائے دور افتادہ طلبہ کے۔


۔[۵] چندے کے علاوہ ایک دقت اور ہو سکتی ہے کہ عید بعد بھی یہی حالات رہے تو دور دراز علاقوں کے طلبہ کے لیے دیگر ریاستوں میں واقع اداروں میں پہنچنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے پیش نظر بھی طلبہ مقامی اداروں سے استفادہ کر کے پڑھائی جاری رکھ سکتے ہیں۔ اور اس طرح ہاسٹل کے بجٹ میں تخفیف کی جا سکتی ہے۔

دنیا میں عذاب الہی کی صورتیں

حفاظِ کرام حالات کا جائزہ لیں

جو حفاظِ کرام دور دراز کے مقامات پر تراویح کے لیے تشریف لے جاتے ہیں؛ وہ اِمسال حالات کا جائزہ لے کر اپنے پروگرام میں تبدیلی کر لیں تو بہتر۔ کیوں کہ ایسے ماحول میں اُمید نہیں ہے کہ طویل سفر افادہ بخش ثابت ہو۔ یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ اِمسال اپنے ہی علاقے میں ختمِ قرآن کی سعادت حاصل کریں۔ دور دراز سے حافظ بلانے والے ٹرسٹیان بھی صرف اِس رمضان کے لیے منصوبہ بندی کریں اور مقامی حفاظ کا تقرر کر کے علما و حفاظ کو ممکنہ دُشواریوں سے بچائیں۔
یہ چند گزارشات حالات کے تناظر میں پیش کی گئیں- اللہ تعالیٰ ہمیں عملِ خیر اور خدمتِ علمِ دین کی توفیق بخشے- آمین بجاہ حبیبہٖ سیدالمرسلین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم

غلام مصطفیٰ رضوی

نوری مشن مالیگاؤں
۱۱؍ اپریل ۲۰۲۰ء
gmrazvi92@gmail.com

GHULAM SAMDANI: جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا