ہندو دھرم کی کتاب

ہندو دھرم کی کتاب ویدوں پر قدرے روشنی

 تحریر ازمحمد رضوان احمد مصباحی،ٹھاکر گنج ، کشن گنج ، بہار۔   مقیم حال  جھاپا ، نیپال، ہندو دھرم کی کتاب ویدوں پر قدرے روشنی

ہندو دھرم کی کتاب ویدوں پر قدرے روشنی

 

اسلام، یہودی یا عیسائی اور نصرانی مذاہب کی طرح ہندو مذہب کی کوئی ایک کتاب نہیں ہے بلکہ ان کے مذہبی اعمال و عقائد اور اور روایات پر مشتمل مختلف کتابیں ہیں جیسے : *وید، شاستر، رامائن، مہا بھارت اور گیتا وغیرہ۔ بعض کو بعض پر فوقیت حاصل ہے لیکن *”وید”* کو ان تمام کتابوں پر اولین اور بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔


وید کا لغوی معنی

विद وید یہ سنسکرت کا لفظ ہے جس کا مصدرود یے

 اور اس کا معنی ہے گیان یعنی جاننا، سوچنا، غور و فکر کرنا، علم


وید کی اصطلاحی تعریف


قدیم ہندو اقوام کے تصورات، عقائد، اعمال، رسومات، روایات اور دیگر واقعات زمانہ کے متعلق منظوم و منثور کلام کے مجموعے کا نام وید ہے ۔ *(اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ ج: 01، ص: 412 ، تصنیف از : ڈاکٹر احمد نعیمی صاحب، جامعہ ہمدرد یونیورسٹی)*


وید کتنے ہیں؟


 اس بارے میں مختلف اقوال ہیں مگر درست قول یہ ہے کہ “وید” ابتدا میں ایک ہی تھا جس میں ایک لاکھ منتر تھے پھر اس کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا بعد میں پھر مختلف ادوار میں اس کی تقسیم ہوتی رہی ۔*چنانچہ منشی سورج نارائن مہر اپنی انپشد کی تشریح میں لکھتے ہیں:*روایت یہ ہے کہ وید ایک تھا *ویاس جی مہاراج* نے اسے چار حصوں میں منقسم کرکے اپنے چار شاگردوں کو پڑھایا ۔ ان کے شاگردوں کے مزید شاگرد ہوئے اور ان کے اور ۔ اس طرح شاخیں پھیلتی چلی گئیں ۔ *( بحوالہ ہندو دھرم اور اسلام کا تقابلی مطالعہ ص: 88 ، تصنیف از : حافظ محمد شارق سلیم صاحب پاکستان)*


ویدوں کی تعداد کے بارے میں آگے لکھتے ہیں

*وید کی موجودہ مسلم کتابیں چار ہیں :  بالترتیب، رگ وید، اتھروید، سام وید اور یجروید ۔  باوجود تضادات و اختلافات کے یہ چاروں وید انتہائی مستند مانی جاتی ہیں کیوں کہ؛ ہندو دھرم کی بنیاد انہی ویدوں پر ہے ۔ ان چاروں ویدوں میں سب سے اہم اور مستند رگ وید ہے ۔ *(سابق


ویدوں میں منتروں کی تعداد

 
  رگ وید میں منتروں کی تعداد (10472) ہے

    شونک رشی(शौनक)*

کی فہرست کے مطابق (10528) ہے

 

 حالانکہ رگ وید کے دسویں منڈل کے ایک  سو چودھویں سوکت کے آٹھویں منتر میں اس وید کے منتروں کی تعداد پندرہ ہزار بیان کی گئ ہے 


یجروید میں چالیس ادھیائے ( باب)  اور تقریباً دو ہزار منتر ہیں ۔
3️⃣  سام وید کے دونوں حصوں  میں ملا کر منتروں کی تعداد (1810) ہے جن میں سے (261) منتروں کا دوبار ذکر ہوا ہے ۔ اس طرح انہیں کم کر دینے سے سام وید کے منتروں کی تعداد (1549) رہ جاتی ہے ۔ ان (1549) منتروں میں صرف (57) منتروں کو چھوڑ کر باقی سارے منتر *رگ وید* کے آٹھویں اور نویں منڈل سے لئے گئے ہیں ۔ اگر ان کو بھی نکال دیا جائے تو سام وید چاروں ویدوں میں بہت ہی مختصر رہ جاتا ہے ۔


4️⃣  اتھروید میں منتروں کی تعداد (5977) ہے  جن میں (1200) منتر ایسے ہیں جو *رگ وید* میں بھی اسی صورت میں پائے جاتے ہیں ۔ *(اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ ج : 01، ص: 428/29/30)*


کس وید میں کیا ہے 

رگ وید* ویدوں میں سب سے اولین اور قدیم وید ہے اس میں اپنے مختلف دیوتاؤں اور معبودوں کے حضور مناجات اور بھجن گائے گئے ہیں

نیز اس میں (جنت ،دوزخ)، گناہ اور نیکی کا بھی ذکر ہے اور معاشیات، سماجیات، بلی و قربانی کو بھی اچھی طرح پیش کیا گیا ہے ۔

چنانچہ قدیم ہندوستانی تاریخ کے عظیم محقق علامہ بیرونی لکھتے ہیں:*ویدوں میں اوامر ونواہی کے علاوہ جزا وسزا کا بھی بیان  ہے تاکہ لوگوں کو اچھے کاموں کی رغبت اور برے کاموں سے نفرت ہو لیکن ان کا بڑا حصہ بھجنوں اور مختلف قسم کی آگ کی قربانی پر مشتمل ہے، جن کی تعداد اتنی زیادہ ہے اور اتنی پیچیدہ ہے کہ ان کا شمار مشکل ہے ۔ *( بحوالہ : اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ ج 01 ،ص: 421


*ڈاکٹر رادھا کرشن کا قول ہے

“رگ وید میں کئ نسلوں کے خیالات ہیں، مختلف بھجنوں اور نغموں میں مختلف نسلوں کے معصوم اور گہرے خیالات کی پہچان ہو جاتی ہے۔” (سابق


*️⃣  *یجروید :* یہ رگ وید ہی سے ماخوذ ہے مگر اس میں خاص طور پر بلی اور قربانی کا تذکرہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ رگ وید کی طرح اس میں بھی معاشی، سماجی اور روحانی حالات پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔

سام وید

تیسرا وید سام وید ہے لفظ سام سنسکرت لفظ

saman
 سے ماخوذ ہے  جس کے معنی موسیقی کے ہیں اگر چہ سام وید بھی رگ وید کی طرح قدیم مانا جاتا ہے مگر اس کی کوئی تاریخی حیثیت نہیں ۔ اس وید میں محض گیت اور بھجن ہیں اور 75 منتر کے علاوہ تمام منتر معمولی فرق کے ساتھ *رگ وید* ہی سے ماخوذ ہے ۔ *(ہندو دھرم اور اسلام کا تقابلی مطالعہ ص: 93


اتھروید 

چاروں ویدوں میں اتھروید سب سے آخری وید ہے ویدوں کا یہ حصہ طویل عرصے کے بعد وجود میں آیا ۔ اتھروید میں اکثر وبیشتر منتر شیاطین دیوتا، جادو، بدفال، سحر، آسیب، علاج و معالجہ اور یونانی جڑی بوٹیوں سے متعلق ہیں ۔

 

آچاریہ وشیشور (आचार्य विशेषवर)

بیان کرتے ہیں 

اتھروید کے آیورید کے متعلق سوکتوں میں انسانی جسم کے جملہ اعضا کا نام بنام ذکر کیا جاتا ہے ۔ جسم کی تخلیق کے بعد جسمانی امراض، بخار، موتی جھالا جیسے معمولی امراض سے لے کر کوڑھ جیسے خطرناک مریضوں کا بیان اتھروید میں ملتا ہے ۔ *(اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ ج اول، ص :424


*ویدوں میں تحریف:*


️  ویدوں کے مطالعہ اور اس کے متعلق ملی معلومات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اس میں بہت زیادہ رد و بدل کیا گیا ہے

اور اسی تحریف کا نتیجہ ہے کہ آج رگ وید کے بہت سے منتر ہندو علما کے  نزدیک بھی مشتبہ ہیں ۔ ذیل میں مختلف نسخوں کے منتروں کو ملاحظہ کریں اور اندازہ لگائیں کہ کس قدر اس میں تحریف کی گئی ہے 

انوواک انوکر منی کے مطابق رگ وید کے منتروں کی تعداد (10580)ہے

پنڈت دیانند کے مطابق (10589) ہے

  سائن آچاریہ کے مطابق (10000) ہے

پنڈت شیو سنکر آریہ کے مطابق (10402)ہے

  اور پنڈت جگن ناتھ کے مطابق (10452) ہے۔

( بحوالہ : ہندو دھرم اور اسلام کا تقابلی مطالعہ
  رگ وید کی طرح *اتھروید* بھی تحریفات سے پر ہے ۔ بلکہ پنڈت ویدک منی صاحب کے الفاظ میں : ” حقیقت میں جس قدر بری حالت اس اتھروید کی ہوئی اتنی اور کسی وید کی نہیں ہوئی سائن آچاریہ کے بعد بھی کئ سوکت اس میں ملا دئے گئے ۔ (سابق

 دوسرے ویدوں کی بہ نسبت *سام وید* میں سب سے زیادہ تحریف ہوئ ہے ۔ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں

اجمیر میں آریاؤں کے مطبوعہ سام وید میں منتروں کی تعداد 1824 ہے ۔

  جیوانند ودیا ساگر کے مطبوعہ سام وید میں 1808 ہے ۔

. پنڈت شیو شنکر کے حساب سے تعداد 1549 ہے

  سوامی ہری جی پرشاد جی نے 65  منتر کا نیا سام وید شائع کیا ہے ۔( حوالہ باقی ہے


 دیگر ویدوں کی طرح *یجروید* بھی تحریف سے پاک نہیں ہے ۔

اس میں بھی کئ قسم کے تحریفات ملتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ہندوستان میں مختلف خطوں میں اس کے مختلف نسخے پائے جاتے ہیں جس میں کثرت سے اختلافات ہیں ۔ ذیل میں ملاحظہ کریں : 

  بمبئی والے یجروید میں 125 ادھیائے کے 47 منتر ہیں لیکن سوامی ویانند نے جو یجروید اجمیر سے چھپوایا ہے اس میں ایک منتر کا اضافہ ہے یعنی 48 منتر ہیں یہ ایک منتر بعد میں ملایا گیا ہے ۔

 

  یجروید بھاشہ بھاشیہ ویانند ادھیائے 9 منتر 20 میں ایک لفظ *گمیات* ملایا گیا ہے ۔

 

  سوامی ویانند کے نزدیک یجروید کے کل منتر کی تعداد 1975 ہے ۔

  شیو شنکر کے نزدیک 987 ہے ۔

*(بحوالہ ہندو دھرم اور اسلام کا تقابلی مطالعہ ص :95


چاروں ویدوں میں جتنے اختلافات ہیں اس کا اندازہ لگانا یقیناً ممکن نہیں، ان میں اختلافات، رد و بدل اور ترمیم اس طرح اور اس قدر کی گئی ہیں کہ موجودہ چاروں وید مشتبہ ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ حقیقت علمائے ہنود کے نزدیک بھی مسلمہ ہے کہ وید نہ تو تحریف اور اختلاف سے پاک ہے اور نہ ہی اس کی تعلیمات فطرت انسانی کے مطابق ہے ۔ وید میں کئ ایک ایسی تعلیم ہے جس سے انسانی اخلاقی اقدار پست ہوجاتا ہے ۔  *(سابق

مزید مطالعہ کریں

علم فلکیات کا ارتقا باب احمد رضا تک

دینی جلسوں کی یہ روش بدلنے کی ضرورت یے

ہندو کا تاریخی پس منظر اور ہندو کا لغوی معنیٰ

ہندو کون یے،اور کسے کیا جائے

 

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top