ہندو کون اور کسے کیا جائے

ہنــدو کـون ہے، ہنــدو کسے کہــا جــاۓ؟

 از قلم، سیف الاسلام رضوی، متعلم الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور  ہنــدو کـون ہے، ہنــدو کسے کہــا جائے؟ 

ہنــدو کـون ہے، ہنــدو کسے کہــا جائے؟

مشرقی ایشیا بالخصوص ہند و نیپال کی اکثریت جو ہندو مت کے پیروکار ہیں عموماً انہیں ہندو کہا جاتا ہے۔ لیکن ہندو کی تعریف کرنا ایک مشکل امر ہے، کیونکہ جس طرح ہندو دھرم کے ماہرین و محققین کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ ہندو دھرم کیا ہے؟ اسی طرح اس بات میں بھی اختلاف ہے کہ ہندو کون ہے؟

لفظ ہندو جغرافیائی پس منظر کا حامل و ترجمان ہے۔  ابتداء یہ لفظ ان لوگوں کے لئے بولا جاتا تھا جو دریاۓ سندھ کے وادی میں آباد تھے یا ان لوگوں کے لئے جو دریاۓ سندھ کے پانی سے سیراب ہوتے تھے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے قبل اہل ہند اس لفظ سے نا آشنا تھے؛ کیونکہ لفظ ہندو کسی بھی قدیم دھرم گرنتھ، مذہبی لٹریچر، تاریخی کتب، اور قدیم لغات میں نہیں ملتا اور نہ ہی اس کا کوئی ہم معنی لفظ ملتا ہے، بلکہ وہاں پہ سناتن دھرم ( دوامی مذہب) اور ویدک دھرم ( ویدا کا مذہب ) کے ساتھ اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ مگر قدیم دھرم گرنتھوں میں مذکور سناتن دھرم کی جگہ اب یہی لفظ “ہندو” مقبول و متعارف ہو گیا ہے۔ لیکن اکثر ہندو دانشوران و محققین کا یہ ماننا ہے کہ لفظ سناتن دھرم ہی زیادہ مناسب ہے

اس لئے کہ یہی اس کا اصل نام ہے اور قدیم دھرم گرنتھوں میں اسی نام کے ساتھ اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ جب کہ ہندو نسبتاً جدید نام ہے، نیز یہ غیر ملکیوں کا دیا ہوا نام ہے۔ سنسکرت کے لغت میں “شبد کلپدرم” کے علاوہ کہیں بھی اس کا تذکرہ نہیں ملتا اور شبد کلپدرم کی بنیاد میر و تنتر ہے جو قدیم ثابت نہیں ہے۔ اسی طرح ہر وہ لغت اور مذہبی لٹریچر جہاں لفظ ہندو مذکور ہے اسے جدید ہی مانا جاۓ گا۔ ہاں فارسی لغت میں لفظ ہندو اور اس سے مشتق الفاظ جیسے ہندوستان، ہندسا اور ہندی وغیرہ ضرور ملتے ہیں۔ 

پنڈت جواہر لال نہرو کی تحریر سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔” ہمارے قدیم مذہبی ادب میں تو ہندو لفظ کہیں آتا ہی نہیں۔ مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ اس لفظ کا حوالہ ہمیں جو کسی ہندوستانی کتاب میں ملتا ہے وہ آٹھویں صدی عیسوی کے ایک تانترک گرنتھ میں ہے، اور وہاں ہندو کا مطلب کسی خاص دھرم سے نہیں بلکہ خاص لوگوں سے ہے۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ یہ لفظ بہت قدیم ہے اور اویستا اور قدیم فارسی میں آتا ہے ( دیکھئے اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ ص ٩٢

محققین کا ماننا ہے کہ ملک ہندوستان کے مغربی سمت پنجاب میں سندھو ندی واقع ہے۔ اور اس عظیم دریا کے مغرب و مشرق میں چھ اور بڑی ندیاں بہتی ہیں اس طرح ملاکر سات ندیاں ہوئیں جنہیں اہل فارس نے اپنی شاعری میں ہفت ہندو کہا ہے۔ قدیم فارسی کتب میں سب سے قدیم روپ یہی ملتا ہے۔ چونکہ فارسی زبان میں “س” کو “ہ” سے بدلنے کا رواج ہے جیسے اسر سے اہر اور سرسوتی سے ارہوتی اسی قاعدے کی بنیاد پر وہ سپت سندھو کو ہفت ہندو کہنے لگے، پھر دھیرے دھیرے صرف ہندو اور ہندی رہ گیا۔ ہندو سے وہ یہاں کے باشندے مراد لیتے اور ہندی سے ان کی زبان۔

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ہندو نام غیر ملکی ہے اور آغاز میں یہ تمام اہل ہند کے لئے بولا جاتا تھا پھر رفتھ رفتہ یہ سناتن دھرم کا نام ہوگیا اور اس دھرم کے ماننے والوں کو بھی ہندو کہا جانے لگا۔ مگر دور حاضر کسے ہندو کہا کہا جاۓ اور اس لفظ کا مصداق کون ہے یہ ایک مشکل امر ہے۔

کیونکہ مورتی پوجنے والے بھی ہندو اور اس کے مخالف بھی ہندو۔گوشت کھانے والے بھی ہندو اور نہ کھانے والے بھی ہندو۔مندر کے پجاری اور وہاں بے روک ٹوک جانے والے بھی ہندو اور وہاں سے دھکا مارکر نکالے جانے والے بھی ہندو۔عدم ظلم و تشدد سب سے بڑا دھرم ہے کا نعرہ لگانے والے، دیکر جانوروں کے قتل سے نفرت کرنے والے بھی ہندو اور درگا پوجا میں بکری اور بھینس کی بلی دینے والے بھی ہندو اور پیاز لہسن نہ کھانے والے بھی ہندو اور انتہائی ناپسندیدہ جانور کھانے والے بھی ہندو۔رام اور سیتا کی پوجا کرنے والے بھی ہندو اور جنوبی ہندوستان میں راون کے ماننے والے بھی ہندو

آپ ہندو دھرم کے اس تضاد سے بالکل پریشان نہ ہوں کیونکہ تضاد ہندو دھرم کی خاصیت ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ نہ تو اس مذہب کا کوئی بانی ہے جس کی طرف یہ منسوب ہو اور نہ ہی دوسرے مذاھب کی طرح کوئی ایک مقدس کتاب جس پہ سب متفق ہوں۔

ایسے بہت سے ہندو دانشوروں نے ہندو کی تعریف کرنے کی کوشش کی ہے مگر کوئی بھی اس کی جامع و مانع تعریف نہ کر سکا۔ کسی نے کہا کہ ہندو وہ ہے جو یہودی، عیسائی، پارسی اور مسلمان وغیرہ نہ ہو۔ کسی نے کہا کہ ہندو مذہب وہی ہے جو ایک ہندو کرتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تمام وہ باشندگان ہند جو اسلام، جین مت، بدھ مت، سمیت پارسی مذہب، یہودی مذہب یا دنیا کے کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتے

اور جن کے طریق عبادت، وحدانیت سے لیکر بت پرستی ہوں اور جن کے دینیات کلیۃ سنسکرت زبان میں لکھے ہوۓ ہوں، وہ ہندو ہیں۔ کسی نے کہا کہ ہندو ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ ہندو دیوی دیوتاؤں اور دھرم گرنتھوں کو مانے، بلکہ ہندو ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہندو ہونے سے انکار نہ کرے…. مشہور ہندو دانشور ساورکر نے کہا کہ تمام وہ لوگ ہندو ہیں جو سندھو دریا سے سمندر تک وسیع خطے کے باشندے ہیں۔ اور ہندوستان کو اپنے باپ دادا کی سرزمین اور تیرتھ مانتے ہیں۔

ان سب کا ماحصل یہ ہے کہ تمام وہ لوگ ہندو ہیں جو ہندوستان کو اپنے پروجوں کی مقدس سرزمین مانتے ہیں اور اس کی ہر شئے سے بی پناہ عقیدت رکھتے ہیں؛ اس لئے کہ ہندو دھرم کا اصل معیار اعتقادات و عبادات نہیں ہیں، بلکہ تمدنی اور سیاسی زندگی کا وہ مخصوص نقطۂ نظر ہے جو مادر وطن سے مجنونانہ محبت کے جذبہ پر قائم ہے۔ لہذا جو شخص بھی ہندوستان کو اپنی غیر متزلزل عقیدت کا مرکز بنالے وہ ہندو، وہی اس کا دھرم ہے اور اسے ہندو کہا جاۓ گا۔

 سیف الاسلام رضوی، متعلم الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور

مزید مطالعہ کریں

مدارس و مکاتب کی ضرورت واہمت

حضور مفتی اعظم اور راہ عزیمت و استقامت

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top